سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! ہماری مسجد میں ایک ساتھی ہیں، جب وہ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ذرا بلند آواز سے قراءت کررہے ہوتے ہیں، ان کو کئی دفعہ سمجھایا بھی ہے، لیکن وہ پھر بھی اسی طرح نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے برابر میں نماز پڑھنے والے کی نماز میں خلل واقع ہورہا ہوتا ہے۔ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے کہ نماز میں اتنی بلند آواز سے قراءت نہیں کرنی چاہیے،جس سے ساتھ والے نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مسند أحمد: (رقم الحدیث: 663، 2/ 90 ط: الرسالة)
عن علي: أن رسول صلى الله عليه وسلم نهى أن يرفع الرجل صوته بالقراءة قبل العشاء وبعدها، يغلط أصحابه وهم يصلون.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی