عنوان:
مسجد تنگ ہونے کی صورت میں سڑک پر نماز پڑھنے کا حکم(3451-No)
سوال:
السلام علیکم, مفتی صاحب ! مارکیٹ کی مسجد میں نمازیوں کی گنجائش کم ہونے کی وجہ سے جمعہ کی نماز میں روڈ پر صفیں بنائی جاتی ہیں، جس سے روڈ بند ہوجاتا ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایذاء مسلم ہے، اور ایسا نہیں کرنا چاہئے۔
جناب ! آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: صورت مسئولہ میں اگر نمازیوں کے لئے کوئی متبادل جگہ موجود ہو، جیسے قریب میں کوئی کشادہ مسجد ہو، تو نمازیوں کو چاہیے کہ اس دوسری مسجد میں چلے جائیں، لیکن اگر کوئی متبادل موجود نہیں ہے، تو بھی جمعہ کو ترک نہیں کیا جا سکتا، اس صورت میں سڑک پر نماز جمعہ پڑھنے کی یہ صورت بن سکتی ہے کہ ایک سڑک بند کر کے اس کے متبادل دوسری سڑک کو ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے، یہ صورت بھی نہ بن سکے، تو پھر صفوں کو سڑک پر خطبہ کے وقت بچھایا جائے، اور فرض کی ادائیگی کے فورا بعد صفیں اٹھالی جائیں، دعا اور بقیہ سنتیں کسی دوسری جگہ یا گھر پر ادا کی جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (کتاب الإیمان، رقم الحدیث: 10)
عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہماعن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، والمہاجر من ہجرہا ما نہی اللّٰہ عنہ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
Masjid Tang, Sarak par namaz, Sadak par namaz, Masjid say bahar namaz parhna, padhna,
Ruling on offering prayers on the road in case the mosque is small, Praying outside the mosque premises due to limited space, less space in masjid