سوال:
ایک جگہ پر بیک وقت دو تین جماعتیں ہورہی تھیں، ایک جماعت والوں میں سے کچھ مقتدیوں نے دوسرے پیش امام کے ساتھ اپنے امام سے پہلے سلام پھیردیا ، کیا ان کی نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
جواب: واضح رہے کہ ایک جگہ میں بیک وقت کئی جماعتیں قائم کرنا باجماعت نماز کے مقصد کے خلاف ہے، اور بعض صورتوں میں ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے، اس لیے ایسا کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے، لہٰذا اگر کسی جگہ پہلے سے جماعت ہورہی ہو تو آنے والے نمازیوں کو چاہیے کہ اسی امام کی اقتداء میں شامل ہوکر نماز ادا کریں۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر مقتدیوں نے التحیات پڑھنے کے بعد غلطی سے اپنے امام سے پہلے سلام پھیر دیا ہے تو ان کی نماز ادا ہوگئی ہے، دوبارہ اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (552/1، ط: دارالفکر)
(وَالْجَمَاعَةُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ لِلرِّجَالِ) قَالَ الزَّاهِدِي: أَرَادُوا بِالتَّأْكِيدِ الْوُجُوبَ إلَّا فِي جُمُعَةٍ وَعِيدٍ فَشَرْطٌ. وَفِي التَّرَاوِيحِ سُنَّةُ كِفَايَةٍ، وَفِي وِتْرِ رَمَضَانَ مُسْتَحَبَّةٌ عَلَى قَوْلٍ. وَفِي وِتْرِ غَيْرِهِ وَتَطَوُّعٍ عَلَى سَبِيلِ التَّدَاعِي مَكْرُوهَةٌ، وَسَنُحَقِّقُهُ. وَيُكْرَهُ تَكْرَارُ الْجَمَاعَةِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ فِي مَسْجِدِ مَحَلَّةٍ لَا فِي مَسْجِدِ طَرِيقٍ أَوْ مَسْجِدٍ لَا إمَامَ لَهُ وَلَا مُؤَذِّنَ
رد المحتار: (525/1، ط: دارالفکر)
(قَوْلُهُ لَوْ أَتَمَّهُ إلَخْ) أَيْ لَوْ أَتَمَّ الْمُؤْتَمُّ التَّشَهُّدَ، بِأَنْ أَسْرَعَ فِيهِ وَفَرَغَ مِنْهُ قَبْلَ إتْمَامِ إمَامَهُ فَأَتَى بِمَا يُخْرِجُهُ مِنْ الصَّلَاةِ كَسَلَامٍ أَوْ كَلَامٍ أَوْ قِيَامٍ جَازَ: أَيْ صَحَّتْ صَلَاتُهُ لِحُصُولِهِ بَعْدَ تَمَامِ الْأَرْكَانِ لِأَنَّ الْإِمَامَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّ التَّشَهُّدَ لَكِنَّهُ قَعَدَ قَدْرَهُ لِأَنَّ الْمَفْرُوضَ مِنْ الْقَعْدَةِ قَدْرُ أَسْرَعَ مَا يَكُونُ مِنْ قِرَاءَةِ التَّشَهُّدِ وَقَدْ حَصَلَ، وَإِنَّمَا كُرِهَ لِلْمُؤْتَمِّ ذَلِكَ لِتَرْكِهِ مُتَابَعَةَ الْإِمَامِ بِلَا عُذْرٍ، فَلَوْ بِهِ كَخَوْفِ حَدَثٍ أَوْ خُرُوجِ وَقْتِ جُمُعَةٍ أَوْ مُرُورِ مَارٍّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا كَرَاهَةَ كَمَا سَيَأْتِي قُبَيْلَ بَابِ الِاسْتِخْلَافِ۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی