resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: جس دن فجر کی سنتیں رہ جائیں، اس دن سورج نکلنے سے لے کر زوال کے وقت تک کے دورانیہ میں فجر کی سنتیں پڑھنے کی اجازت کی وجہ

(37695-No)

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ سورج نکلنے کے بعد سے لے کر ظہر کی نماز شروع ہونے تک جو وقت ہے یہ کون سی نماز کا ہے؟ کیا یہ فجر کی نماز کا وقت نہیں ہے اور اگر نہیں ہے تو فقہاء پھر کیوں کہتے ہیں کہ اگر کسی کی جماعت کے ساتھ فجر چھوٹ جائے اور وہ سورج نکلنے کے بعد نماز فجر ادا کرے تو سنتیں بھی ادا کرے حالانکہ سنتوں کی قضا تو نہیں ہوتی تو بتائیے کہ یہ کون سا وقت ہوتا ہے؟ برائے مہربانی یہ وضاحت فرما دیں۔

جواب: واضح رہے کہ سورج نکلنے کے بعد سے لے کر زوال کے وقت تک کا دورانیہ فجر یا اس کے علاوہ کسی خاص فرض نماز کا وقت نہیں ہے، بلکہ فجر کی نماز کا وقت اس پہلے ختم ہو جاتا ہے، البتہ اس دوران فجر کی سنتوں کے پڑھنے کا حکم اس وجہ سے نہیں دیا گیا ہے کہ یہ فجر کی نماز کا وقت ہے، بلکہ یہ حکم اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں فجر کی سنتوں کی تاکید بہت زیادہ آئی ہے، جیساکہ سنن ابی داؤد میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کہ تم فجر کی دو رکعتوں کو مت چھوڑو، اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں"۔ (سنن أبی داؤد، حدیث نمبر: 1258)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

سنن أبي داؤد: (441/2، رقم الحديث: 1258، ط: دار الرسالة العالمية)
عن أبي هريرة، قال: قال رسولُ الله - صلَّى الله عليه وسلم: "لا تدَعُوهما وإن طَرَدَتْكم الخَيْلُ".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)