عنوان: ملازمت کی وجہ سے آبائی وطن کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں رہائش اختیار کرنے والا اگر اپنے آبائی وطن(شہر) جائے، تو قصر کرے گا یا نہیں؟(103865-No)

سوال: مفتی صاحب ! میں سعودیہ عرب میں ملازمت کرتا ہوں اور میرا ملک انڈیا ہے، تو انڈیا میں نماز قصر پڑھونگا؟

جواب: واضح رہے کہ اگر آپ اپنے اہل و عیال کے ساتھ سعودی عرب منتقل ہوکر وہاں تمام عمر کے لیے مستقل رہائش کی نیت کرچکے ہیں، اور اپنے آبائی وطن (شہر) میں رہائش کو مکمل طور پر ترک کر چکے ہیں، اور سعودی عرب سے ملازمت ترک کرنے کی صورت میں اپنے آبائی وطن (شہر) میں رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تو چوں کہ اس صورت میں آپ کا آبائی وطن آپ کا وطنِ اصلی نہیں رہا، اس لیے اگر آپ پندرہ دن سے کم کے لیے وہاں جائیں گے، تو وہاں قصر کریں گے، لیکن اگر آپ نے اپنے آبائی وطن کی رہائش کو مستقل طور پر ترک کرنے کا ارادہ نہیں کیا ہے، بلکہ مستقبل میں وہاں بھی رہائش کا ارادہ باقی ہے، تو آپ کا آبائی وطن تاحال آپ کا وطنِ اصلی ہے، اور اس صورت میں آپ جب بھی اور جتنے دن کے لیے بھی اپنے آبائی وطن جائیں گے، تو وہاں پوری نماز پڑھیں گے۔

_____
دلائل:
کذا فی الشامیة:
(الوطن الاصلی یبطل بمثلہ)
فَلَوْ كَانَ لَهُ أَبَوَانِ بِبَلَدٍ غَيْرِ مَوْلِدِهِ وَهُوَ بَالِغٌ وَلَمْ يَتَأَهَّلْ بِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ وَطَنًا لَهُ إلَّا إذَا عَزَمَ عَلَى الْقَرَارِ فِيهِ وَتَرَكَ الْوَطَنَ الَّذِي كَانَ لَهُ قَبْلَهُ شَرْحُ الْمُنْيَةِ.
(ج:2/133، باب صلاة المسافر)

وایضا:
"(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه"...
"(قوله: أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل".
(ج:2/131)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

نماز میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

02 Apr 2020
جمعرات 02 اپریل - 8 شعبان 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com