سوال:
میرے چار بچے ہیں جن میں سے ایک بچہ ڈاؤن سنڈروم کی وجہ سے وفات پا چکا ہے، میں اب دوبارہ حمل سے ہوں اور میرا ایک مہینہ مکمل ہو رہا ہے، لیکن جن حالات میں یہ حمل ٹھہرا ہے، اس میں شدید نقصان دہ دوائیاں کا استعمال کر رہی تھی، جس کا میرے بچے پر برا اثر پڑنے کے عین ممکن امکانات ہیں، میں اس حمل کو ساقط کرنا چاہتی ہوں تو کیا یہ میرے لیے جائز ہے؟ مجھے تمام بچے بڑے آپریشن سے ہوتے ہیں اور آخری بڑا آپریشن آٹھ مہینے پہلے ہوا ہے جس کی وجہ سے میری صحت بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں اس حمل کو پورا کر سکوں۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے
جواب: پوچھی گئی صورت میں ادویات کے استعمال کی وجہ سے حمل کو نقصان دہ اثرات لاحق ہونے یا آپ کی صحت کے لیے حمل برداشت نہ کرنے کے محض امکان کی وجہ سے اسقاطِ حمل کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم علاج و معالجہ کے بعد اگر ماہر اور دیانت دار ڈاکٹر حضرات ادویات کے استعمال کی وجہ سے مذکورہ ایک ماہ کے حمل کو کسی شدید بیماری کے لاحق ہونے کے غالب گمان کی بنا پر اس کے ساقط کرنے کا مشورہ دے دیں، یا ماں کی صحت کے لیے اسے نقصان دہ قرار دے دیں تو ایسی صورت میں اس حمل کو ساقط کرنے کی گنجائش ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (429/6، ط: دار الفکر)
"و يكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر حيث لايتصور."
(قوله: و يكره إلخ) أي مطلقًا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله: وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل و انقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا: يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله: حيث لايتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك.‘‘
الفتاوی الهندية: (356/5، ط: دار الفکر)
’’رجل عزل عن امرأته بغير إذنها لما يخاف من الولد السوء في هذا الزمان فظاهر جواب الكتاب أن لايسعه وذكر هنا يسعه لسوء هذا الزمان كذا في الكبرى. وله منع امرأته من العزل كذا في الوجيز للكردري. وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان. العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز ... وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية. و لايجوز للمرضعة دفع لبنها للتداوي إن أضر بالصبي كذا في القنية. امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين. وهكذا في فتاوى قاضي خان. والله أعلم‘‘.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی