سوال:
حضرت! میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم خلیجی ممالک میں ہوتے ہیں تو وہاں عصر کی نماز باجماعت اکثر مثلِ اوّل کے وقت ادا کی جاتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے جماعت کے ساتھ نماز ادا نہ ہو سکے تو کیا حنفی مسلک کے مطابق عصر کی نماز پھر بھی مثلِ اوّل کے وقت ادا کی جا سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ جن علاقوں میں مثلِ ثانی کے بعد عصر کی جماعت نہ ہوتی ہو اور وہاں عام معمول ہی مثلِ اوّل کے بعد نماز کا ہو تو ایسی صورت میں جماعت کو ترک کرنے کے بجائے انہی کے ساتھ مل کر باجماعت عصر کی نماز ادا کر لینی چاہیے، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے جماعت فوت ہو جائے تو اکیلے نماز پڑھتے ہوئے مثلِ ثانی کے بعد ہی عصر کی نماز ادا کرنی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المبسوط للسرخسي: (142/1، ط: دار المعرفة)
قال (ووقت الظهر من حين تزول الشمس إلى أن يكون ظل كل شيء مثله) في قول أبي يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى وقال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - لا يدخل وقت العصر حتى يصير الظل قامتين ولا خلاف في أول وقت الظهر".
الدر المختار مع رد المحتار: (359/1، ط: دار الفکر)
(ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) وعنه مثله، وهو قولهما وزفر والأئمة الثلاثة. قال الإمام الطحاوي: وبه نأخذ. وفي غرر الأذكار: وهو المأخوذ به. وفي البرهان: وهو الأظهر. لبيان جبريل. وهو نص في الباب. وفي الفيض: وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى۔۔۔۔۔۔۔(ووقت العصر منه إلى) قبيل (الغروب)۔
(قوله: وعليه عمل الناس اليوم) أي في كثير من البلاد، والأحسن ما في السراج عن شيخ الإسلام أن الاحتياط أن لا يؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلي العصر حتى يبلغ المثلين ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، وانظر هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل.
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی