resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر گھر میں نماز پڑھنا

(3876-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! موجودہ حالات(کروناوائرس سے حفاظتی اقدام کے پیشِ نظر) میں گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ جس محلہ میں کرونا وائرس کی وبا عام ہوجائے تو اس محلہ کے لوگوں کے لیے مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی رخصت تو ہوگی، البتہ اس محلے کے چند لوگوں کو پھر بھی مسجد میں باجماعت نمازوں کا اہتمام کرنا ہوگا اور اگر مسجد میں باجماعت نماز پورے محلے والوں نے ترک کردی تو پورا محلہ گناہ گار ہوگا؛ کیوں کہ مسجد کو اس کے اعمال سے آباد رکھنا فرضِ کفایہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

عمدة القاري: (146/6)
"وكذلك ألحق بذلك بعضهم من بفيه بخر، أو به جرح له رائحة، وكذلك القصاب والسماك والمجذوم والأبرص أولى بالإلحاق، وصرح بالمجذوم ابن بطال، ونقل عن سحنون: لاأرى الجمعة عليه، واحتج بالحديث. وألحق بالحديث: كل من آذى الناس بلسانه في المسجد، وبه أفتى ابن عمر، رضي الله تعالى عنهما، وهو أصل في نفي كل ما يتأذى به".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Corona Virus, kay, ke, phailao, phelao, paish, pesh, e nazar, paish e nazar, ghar, main, mein, namaz, parhna, padhna, corona, ki, wajah, Praying at home in view of the spread of the corona virus

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)