resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کیا قضاء روزوں میں سال کی تعیین ضروری ہے؟

(39768-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر کسی کے دو سال (2024 اور 2025) کے رمضان کے روزے قضا ہوں اور جب وہ قضا روزے رکھے تو کیا نیت میں سال کا تعین کرنا ضروری ہے یا بغیر سال متعین کیے بھی قضا روزہ ادا ہو جائے گا؟ اور اگر کسی نے رات میں صرف یہ نیت کی کہ میں رمضان کے قضا روزے رکھ رہی ہوں تو کیا اس کا قضا روزہ ادا ہو جائے گا؟

جواب: واضح رہے کہ اگر کسی شخص کے ذمّہ کئی سالوں کے رمضان کے قضاء روزے باقی ہوں تو احتیاط اسی میں ہے کہ قضاء کرتے وقت سال کی تعیین بھی کر لی جائے، تاہم اگر کسی نے سال کی تعیین کے بغیر ہی قضاء روزے رکھ لیے، تب بھی اس کے قضاء روزے شرعاً درست شمار ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار:(كتاب الخنثى، مسائل شتى،734/6،ط: دار الفكر)
(ﻭﻟﻮ ﻧﻮﻯ ﻗﻀﺎء ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻭﻟﻢ ﻳﻌﻴﻦ اﻟﻴﻮﻡ ﺻﺢ) ﻭﻟﻮ ﻋﻦ ﺭﻣﻀﺎﻧﻴﻦ ﻛﻗﻀﺎء اﻟﺼﻼﺓ ﺻﺢ ﺃﻳﻀﺎ
(ﻗﻮﻟﻪ ﻭﻟﻮ ﻋﻦ ﺭﻣﻀﺎﻧﻴﻦ ﺇﻟﺦ) ﻗﺎﻝ اﻟﺰﻳﻠﻌﻲ: ﻭﻛﺬا ﻟﻮ ﺻﺎﻡ ﻭﻧﻮﻯ ﻋﻦ ﻳﻮﻣﻴﻦ ﺃﻭ ﺃﻛﺜﺮ ﺟﺎﺯ ﻋﻦ ﻳﻮﻡ ﻭاﺣﺪ، ﻭﻟﻮ ﻧﻮﻯ ﻋﻦ ﺭﻣﻀﺎﻧﻴﻦ ﺃﻳﻀﺎ ﻳﺠﻮﺯ

امداد الفتاویٰ:(کتاب الصوم،182/4،ط: نعمانیہ)

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sawm (Fasting)