سوال:
مفتی صاحب! میرے اوپر قضا روزے کافی چڑھ گئے ہیں اور پہلے رکھ نہیں پائی تو اب سب تعداد نکال کر رکھ رہی ہوں، لیکن میں نے کہیں پڑھا ہے کہ جب قضا روزہ رکھیں تو دن تاریخ یاد ہو تو وہ نیت کریں اور اگر دن تاریخ یاد نہ ہو تو نیت یہ ہو کہ قضا روزوں میں سے سب سے پہلا روزہ رکھ رہی ہوں یا قضا روزوں میں سے سب سے آخری روزہ رکھ رہی ہوں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ میں نے جو قضا روزے رکھے تو یہ نیت کی کہ اے اللّٰہ! میں اپنے قضا روزوں میں سے روزہ رکھ رہی ہوں تو اسے مجھ پر آسان کر دے اور اسے قبول فر مالے۔ میں نے "سب سے پہلا" یا "سب سے آخری" کا لفظ نیت میں نہیں کہا تو کیا میری قضا ادا ہو گئی یا مجھے یہ روزے دوبارہ رکھنے پڑیں گے؟ رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللّٰہ خیرا کثیرا کثیرا
جواب: واضح رہے کہ اگر کسی شخص کے ذمّہ ایک ہی رمضان کے روزے باقی ہوں تو بہتر یہ ہے کہ قضا روزے رکھتے وقت یوں کہے کہ قضا روزوں میں سے پہلے کی قضا کرتا ہوں، تاہم ایسا کہنا ضروری نہیں ہے۔
البتہ اگر دو یا اس سے زیادہ سالوں کے روزوں کی قضا ذمّہ میں ہو تو ایسی صورت میں احتیاط یہی ہے کہ بوقت قضا سال کی تعیین کی جائے، لیکن اگر اس تعیین کے بغیر ہی روزوں کی قضا کی جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے اور اس سے بھی ذمّہ فارغ ہو جاتا ہے۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں آپ کے قضا رکھے ہوئے روزے ادا ہوچکے ہیں، انہیں دوبارہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیۃ: (196/1، ط: دار الفکر)
إذا وجب عليه قضاء يومين من رمضان واحد ينبغي أن ينوي أول يوم وجب عليه قضاؤه من هذا الرمضان، وإن لم يعين الأول يجوز، وكذا لو كان عليه قضاء يومين من رمضانين هو المختار، ولو نوى القضاء لا غير يجوز، وإن لم يعين كذا في الخلاصة.
کذا فی امداد الفتاوی: (136/2، ط: مکتبہ دارالعلوم کراتشی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی