سوال:
مفتی صاحب! میں پاکستان سے فزیوتھراپی کی گریجویٹ ہوں، یونیورسٹی کے دوران میں نے مکمل شرعی نقاب اختیار کیا اور اب سختی سے غیر محرم مردوں کے ساتھ فری مکسنگ اور جسمانی رابطے سے اجتناب کرتی ہوں۔
میں نے مخلوط تعلیمی ماحول اور جسمانی رابطے کی مجبوریوں کے باوجود بڑی مشکل سے اپنی ڈگری مکمل کی، اس وقت میں ایسے ماحول میں کام جاری رکھنا نہیں چاہتی، میں ایک دیندار اور عمل کرنے والے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہوں، لیکن چونکہ میں پردہ یا اپنے دینی اصولوں میں نرمی کرنے پر آمادہ نہیں ہوں، اس لیے بہت سے رشتے رد ہو جاتے ہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ خاندان اور معاشرے کا مسلسل دباؤ کہیں میرے اللہ کی اطاعت پر منفی اثر نہ ڈال دے۔
میں سعودی عرب کی طرف ہجرت کا راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہوں، جہاں میں دین کے مطابق زندگی گزار سکوں اور صرف خواتین کے ماحول میں کام کر سکوں، تاہم سعودی لائسنسنگ کے لیے ایک سال کا ہاؤس جاب / انٹرن شپ مکمل کرنا ضروری ہے۔ میری ہاؤس جاب جلد شروع ہونے والی ہے، لیکن اس میں شدید فری مکسنگ اور مردوں کے ساتھ جسمانی رابطہ شامل ہے، جس کے بارے میں مجھے خوف ہے کہ یہ حرام میں مبتلا ہونے اور میرے ایمان کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس وقت میں دو باتوں کے درمیان سخت الجھن میں ہوں: حرام میں پڑنے کے خوف کے باوجود اس مخلوط ماحول میں ہاؤس جاب مکمل کرنا یا کسی ذریعے / ریفرنس کے ذریعے بغیر عملی طور پر اس ماحول میں کام کیے ہاؤس جاب کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا، تاکہ فتنہ سے بچا جا سکے اور دین کی حفاظت ہو۔میری نیت دنیاوی فائدہ نہیں، بلکہ اپنے ایمان کی حفاظت اور ہجرت کے راستے کو کھلا رکھنا ہے۔
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا مجھے حرام کے خوف کے باوجود ہاؤس جاب کرنی چاہیے
یا اپنے دین کی حفاظت کے لیے ضرورت (ضرورت / اضطرار) کے تحت دوسرا راستہ اختیار کرنا جائز ہو سکتا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ عورت کو شدید ضرورت کے تحت جن شرائط کی روشنی میں کام کاج کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی ہے، ان میں سے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ کام کاج کے دوران مردوں کے ساتھ اختلاط کے نتیجے میں کسی قسم کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں مذکورہ خاتون کے لیے سعودی عرب جانے کی غرض سے ایک سال اس طرح کام کاج میں گزارنا جس میں مردوں سے اختلاط کے نتیجے میں شدید فتنے میں پڑنے اور ایمان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، جائز نہیں ہے۔
چونکہ سعودی عرب جانا بذات خود ایک جائز عمل ہے، شرعاً لازم اور ضروری نہیں ہے، اس لیے آپ کو چاہیے کہ ایک جائز کام کے لیے خود کو کسی بھی قسم کے فتنے میں ڈالنے یا اس کے لیے کوئی ناجائز یا غیر قانونی راستہ اختیار کرنے سے اجتناب کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (الاحزاب، الآیة: 33)
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآَتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا.
القرآن الکریم: (الاحزاب، الآیة: 32)
يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی