resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: عورت کا مکمل حجاب اور پردہ میں رہتے ہوئے سر کا صرف پچھلا حصہ دکھا کر سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو ریکارڈ کرانا

(39799-No)

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان عورت ہونے کے ناتے میں جانتی ہوں کہ میں سوشل میڈیا پر اپنی نمائش نہیں کر سکتی۔ میرے پاس ایک سروس ہے جو میں خاص طور پر مسلمان بہنوں کے لیے پیش کرنا چاہتی ہوں، اور میں اسے سوشل میڈیا پر بغیر خود کو دکھائے پروموٹ کرنا چاہتی ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں ایسی ویڈیو ریکارڈ کروں جس میں میں کیمرے کی طرف منہ نہ کر رہی ہوں (یعنی پیچھے سے ریکارڈ ہو)، تاکہ میرا چہرہ نظر نہ آئے، جبکہ میں مکمل باحجاب اور باپردہ لباس میں ہوں اور صرف میرے سر کا پچھلا حصہ نظر آتا ہو، تاکہ دیکھنے والوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ میں کوئی حقیقی انسان ہوں؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ سوشل میڈیا کے اس پُرفتن دور میں پردے میں رہ کر بھی مذکورہ طریقے پر ویڈیو ریکارڈ کرانے سے مکمل احتراز کرنا چاہیے، البتہ اگر آپ کو ضرورت کی حالت، یعنی اخراجات کے سلسلے میں دشواری کا سامنا درپیش ہو، اور کمائی کا کوئی اور ذریعہ نہ ہو، جس کے پیشِ نظر آپ سوشل میڈیا پر دیگر خواتین کے لیے ویڈیو ریکارڈ کروانا چاہتی ہوں تو ایسی مجبوری میں اس طرح کی ویڈیو بنانے کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ ویڈیو میں آپ مکمل شرعی پردے کے ساتھ ہوں، اور ویڈیو میں گانے وغیرہ کی آواز نہ ہو، نیز گفتگو انتہائی محتاط انداز پر مبنی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

القرآن الكريم: (النور، الآية: 31 )
قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ.

القرآن الكريم: ( الاحزاب، الآية: 32 )
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا.

جامع الترمذى: ( 38/4، رقم الحدیث: 2165، ط: دار الغرب الاسلامى )
عن ‌ابن عمر قال: «خطبنا ‌عمر بالجابية،» فقال: يا أيها الناس، إني قمت فيكم كمقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا، فقال: أوصيكم بأصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم، ثم يفشو الكذب حتى يحلف الرجل ولا يستحلف، ويشهد الشاهد ولا يستشهد، ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان، عليكم بالجماعة وإياكم والفرقة، فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد، من أراد بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة، من سرته حسنته وساءته سيئته فذلك المؤمن.
هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه، وقد رواه ابن المبارك عن محمد بن سوقة، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم.

رد المحتار: ( 406/1، ط: دار الفکر )
ذکر الإمام أبو العباس القرطبي في کتابه في السماع: ولا یظن من لا فطنة عندہ أنا إذا قلنا صوت المرأۃ عورۃ، أنا نرید بذلک کلامها؛ لأن ذلک لیس بصحیح، فإنا نجیز الکلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلی ذلک، ولا نجیز لهن رفع أصواتهن ولا تمطیطها ولا تلیینها وتقطیعها، لما في ذلک من استمالة الرجال إلیهن وتحریک الشهوات منهم، ومن هذا لم یجز أن تؤذن المرأۃ، قلت: ویشیر إلی تعبیر النوازل بالنغمة.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues