سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب ! اگرنماز میں امام اتنی جلدی تشہد پڑھ لے کہ کئی نمازی اس کو پورا نہ کرسکیں تو کیا امام جب سلام پھیرے تو امام کے ساتھ سلام پھیر دیں یا اپنی التحیات مکمل کر کے سلام پھیریں؟
جواب: واضح رہے کہ اگر مقتدی تشہد پڑھ رہا ہو اور تشہدکا کچھ حصہ باقی ہو، اور امام سلام پھیر دے تو مقتدی کو چاہیے کہ وہ تشہد مکمل کر کے سلام پھیر دے اور درود شریف نہ پڑھے، کیونکہ امام کی اتباع کرنا واجب ہے، جبکہ درود شریف پڑھنا سنت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (مطلب في إطالۃ الرکوع للجائي، 496/1، ط: سعید)
بخلاف سلامہ أوقیامہ لثالثۃ قبل تمام المؤتم التشہد فإنّہ لایتابعہ بل یتمہ لوجوبہ
قولہ : فإنّہ لایتابعہ الخ: وشمل بإطلاقہ مالواقتدیٰ بہ في أثناء التشہد الأول أو الأخیر فحین قعد قام إمامہ أوسلّم ومقتضاہ أنّہ یتم التشہد ثم یقوم۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی