resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ایک جانور میں ایک سے زائد بچوں کے عقیقہ کا حکم

(42067-No)

سوال: مفتی صاحب! عقیقہ کے بارے میں اس بات کی معلومات درکار ہے کہ کیا ایک ہی جانور سے بیٹے اور بیٹی کا عقیقہ ہو سکتا ہے؟ برائے مہربانی اصلاح فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ ایک بڑے جانور جیسے گائے، بیل یا اونٹ میں چونکہ سات حصے ہوتے ہیں، اس لیے اس میں بیٹے اور بیٹی دونوں کا عقیقہ کرنا جائز ہے، جبکہ چھوٹا جانور جیسے بکری، دنبہ یا بھیڑ صرف ایک ہی حصے پر مشتمل ہوتا ہے، لہٰذا اس میں دو بچوں کی طرف سے عقیقہ درست نہیں ہوگا، بلکہ دونوں کے عقیقہ کے لیے علیحدہ علیحدہ جانور لینے ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الھندیة: (297/5، ط: دارالفکر)*
*فلا تجوز الشاة والمعز إلا عن واحد*، وإن كانت عظيمة سمينة تساوي شاتين مما يجوز أن يضحي بهما، *ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة وأقل من ذلك*، وهذا قول عامة العلماء.

*اعلاء السنن: (119/17، ط: ادارۃ القرآن)*
و لو ذبح بدنة او بقرۃ من سبعة اولاد او اشترک فیھا جماعة جاز.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa