عنوان: بیٹ باکسنگ (Beat boxing) کا حکم(4354-No)

سوال: السلام عليكم، مفتی صاحب ! چند سوالوں کے جواب درکار ہیں۔
ایک تو یہ کہ قدرتی آوازوں سے بھی بیٹس بنائی جاسکتی ہیں اور بنائی جاتی ہیں، جیسے ٹیبل بجا کر، تالی بجا کر، پاوں پر ہاتھ مار کر یا ردھم سے چلنے کی آواز وغیرہ وغیرہ، تو کیا یہ جائز ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ آج کل ووکل افیکٹس ایسے ہوگئے ہیں کہ ان سے آواز کافی تبدیل ہو جاتی ہے اور سُروں میں پرفیکشن آجاتی ہے، جسے آٹو ٹیون کہتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہو گا؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ بیک گراؤنڈ کے لیے پیانو گٹار وغیرہ کے بجائے "ہممم" یا "حا" ٹائپ کی آوازیں نکال کر ان کو سینتھیسیزرس اور ووکوڈرس کے ذریعے صحیح سر پر بیٹھا دینا جائز ہوگا؟
سینتھیسیزر کے ذریعے اِس حد تک آواز تبدیل ہو جاتی ہے کہ اس آواز کا پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے، تو اگر اسے بالکل میوزیکل انسٹرومینٹ کی طرح بنا دیا جائے، تو وہ لازماً ناجائز ہوگا، لیکن اگر وہ کسی انسٹرومینٹ سے نہ ملے، بلکہ ایک نئی آواز بن جائے تو کیا یہ جائز ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ Beat boxing ایک فن ہے، جس میں منہ، ناک کی بانسوں، نتھنوں اور گلے سے موسیقی کی آوازیں بغیر کسی آلے (MUSICAL INSTRUMENTS) کے نکالی جاتی ہیں، اور بعض مرتبہ اس مقصد کے لیے ہاتھ، پاؤں اور دیگر اعضاء کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
یہ آوازیں موسیقی کی آوازوں سے اتنی ملتی جلتی ہیں کہ بعض مرتبہ ماہرین بھی ان آوازوں اور اصل موسیقی میں فرق نہیں کر پاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام میں موسیقی کی آواز کو حرام قرار دیا گیا ہے اور موسیقی کے آلات جن کو "معازف" کہا گیا ہے،اس میں باجے، سارنگی اور ڈھول وغیرہ شامل ہیں، ان آلات کے استعمال کے حرام ہونے کی علت اس میں سے نکلنے والی موسیقی کی آواز ہے، ورنہ بظاہر ان آلات کو استعمال کرنے کی حرمت کی کوئی وجہ نہیں، چنانچہ انہی آلات کو کسی اور استعمال میں لایا جائے، مثلاً: ڈھول کو پانی بھرنے یا ڈرم کے طور پر استعمال کیا جائے، تو اس کا استعمال بالاتفاق جائز ہے، پتا چلا کہ اصل حرام ہونے کی وجہ اس میں سے نکلنے والی موسیقی کی آواز ہے، جس سے آدمی اپنے آپ کو محظوظ (ENTERTAIN) کرتا ہے۔ چنانچہ فقہاء کے اصول کے مطابق جہاں یہ علت پائی جائے گی، وہاں معلول (حرام ہونے کا حکم) بھی پایا جائے گا، لہذا یہ موسیقی جس طریقہ سے بھی پیدا کی جائے، وہ حرام ہے، چاہے اپنے اعضاء کے ذریعے یا کسی آلے کے ذریعے، ہر دو صورت میں اس پر حرام ہونے کا حکم لگایا جائے گا، حتی کہ حضور ﷺ نے قرآن کو بھی گانے کی آواز میں پڑھنے سے منع فرمایا ہے:
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( اقْرَءُوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وأَصْوَاتِها، وَإِيَّاكُمْ ولُحُونَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَأَهْلِ الْفسقِ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ بَعْدِي قَوْمٌ يُرَجِّعُونَ بِالْقُرْآنِ تَرْجِيعَ الْغِنَاءِ وَالرَّهْبَانِيَّةِ وَالنَّوْحِ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، مفتونةٌ قُلُوبُهُمْ، وقلوبُ مَنْ
يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ )
"
(معجم اوسط الطبرانی، کتاب فضائل القرآن، رقم الحدیث 7223)
ترجمہ:
حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن کریم کو اہل عرب کی لہجوں اور آوازوں کے مطابق پڑھو، فساق و فجار اور اہل کتاب کے طرز پر پڑھنے سے بچو، میرے بعد ایک جماعت پیدا ہوگی، جس کے افراد گانے، راگ اور نوحہ کی طرح آواز بناکر قرآن پڑھیں گے، (ان کا حال یہ ہوگا) کہ قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا( یعنی قرآن ان کے دل پر اثر نہیں کرے گا) نیز ان کے اور ان کی قراءت سن کر خوش ہونے والوں کے قلوب فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔
واضح رہے کہ موسیقی کے علاوہ آوازیں، جیسے: چڑیوں کی چہچہاہٹ، گھوڑے کی ہنہناہٹ،آبشاروں سے پانی کے گرنے کی آواز، سمندر کی لہروں کی آواز، گاڑیوں کے انجن کی آواز وغیرہ منہ سے نکالنا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (لقمان، الایة: 6- 9)
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مَّھِیْنٌo وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسْتَکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا کَاَنَّ فِیْ اُذُنَیْہِ وَقْرًا فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍo اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِo خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُo

صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 5268)
حدثنی ابو عامر او ابومالک الاشعری واللّٰہ ما کذبنی سمع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: لیکونن من امتی اقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف.

رد المحتار: (کتاب الحظر و الاباحۃ، 350/6، ط: سعید)
اقول : و ھذا یفید ان آلۃ اللھو لیست محرمۃ لعینھا، بل لقصداللھو اما من سامعھا او من المشتغل بھا وبہ تشعر الاضافۃ الا تری ان تلک ضرب الالۃ بعینھا حل تارۃ وحرم اخری باختلاف النیۃ بسماعھا والامور بمقاصدھا۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1502 May 12, 2020
beat boxing ka hukum, Ruling on Beat Boxing

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.