عنوان: غذائی اجناس کے بجائے قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم(104355-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! کیا مندرجہ ذیل مسئلہ درست ہے یا فطرانہ میں (جیسا کہ مشہور ہے) نقدی بھی دی جا سکتی ہے؟ شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کہتےہیں: صحیح بخاری اور مسلم میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (طعام) کھانے کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کشمش کا ایک صاع (فطرانہ میں ) دیتے تھے۔ بہت سے اہل علم نے حدیث میں مذکور "طعام"سے مراد گندم لی ہے، جب کہ دیگر علمائے کرام نے "طعام" سے مراد ہر وہ چیز لی ہے، جسے کسی بھی علاقے کے لوگ بطورِ خوراک استعمال کرتے ہوں، چاہے گندم ہو یا مکئی ہو یا باجرا یا کوئی اور چیز، "طعام"کا یہی معنی درست ہے، کیونکہ فطرانہ امیر لوگوں کا غریب طبقے کیساتھ اظہار ہمدردی ہے اور کسی بھی مسلمان پر یہ واجب نہیں ہے کہ اظہار ہمدردی غیر علاقائی غذا سے کرے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی اسی معنی کو پسند کیا ہے، چنانچہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرانہ عام غذائی اجناس سے ادا کیا جائے گا، نقدی کی شکل میں نہیں دیا جائے گا جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فطرانہ کیلیے نقدی کا کوئی اور متبادل بھی نہیں دیا جاسکتا۔

جواب: واضح رہے کہ غذائی اجناس کے بجائے قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنے کے بارے میں امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ اجناس کے بجائے قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنا جائز نہیں ہے۔
اور یہ حضرات ان تمام روایات کے ظاہری الفاظ سے استدلال فرماتے ہیں کہ جن میں
مختلف اجناس (گندم، جَو، کھجور اور کشمش وغیرہ ) کا ذکر آتا ہے۔
یہ حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اجناس کو صدقہ فطر میں مقرر فرمایا ہے،لہذا انہی اجناس ہی کے ذریعے صدقہ فطر ادا کیا جائے، ان کی قیمت ادا کرنے سے صدقہ فطر ادا نہ ہوگا۔

جبکہ امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری اور امام بخاری رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر اجناس کے بجائے قیمت سے ادا کرنا بھی جائز ہے۔

احناف کے دلائل:
1۔ احناف دلیل دیتے ہیں کہ صدقہ فطر کا اصل مقصد فقیر کو عید الفطر کے دن کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز کرنا ہے ، جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ "أغنوهم عن المسألة في هذا اليوم"
یعنی اس دن میں ان فقراء کو سوال کرنے سے مستغنی کردو۔

2۔ اسی طرح تابعین کے آثار سے بھی غذائی اجناس کے بجائے قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔

١۔ روى ابن أبي شيبة عن عون قال: سمعت كتاب عمر بن عبد العزيز يقرأ إلى عدي بالبصرة - وعدي هو الوالي -: يؤخذ من أهل الديوان من أعطياتهم من كل إنسان نصف درهم
(مصنف ابن أبي شيبة، ج:2، ص: 398، ط:مكتبة الرشد، رياض )

ترجمہ:
 خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بصرہ میں عدی کی طرف (خط) لکھ کر بھیجا کہ ہر شخص سے آدھا درہم لیا جائے۔

٢۔ وعن الحسن قال: لا بأس أن تعطي الدراهم في صدقة الفطر.
(مصنف ابن أبي شيبة، ج:2، ص: 398، ط: مكتبة الرشد، رياض)

ترجمہ:
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر میں (غذائی اجناس کے بجائے ) دراہم دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

٣۔ وعن أبي إسحاق قال: أدركتهم وهم يؤدون في صدقة رمضان الدراهم بقيمة الطعام.
(مصنف ابن أبي شيبة، ج:2، ص: 398، ط: مكتبة الرشد، رياض)

ترجمہ:
ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے تابعین کو دیکھا کہ وہ صدقہ فطر میں غذائی اجناس کی قیمت ادا کرتے تھے۔

ان آثار سے یہ پتہ چلا کہ صدقہ فطر میں نقدی (روپے وغیرہ) دینا جائز ہے۔

3۔ اگر بنظر انصاف دیکھا جائے اور غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور مبارک اور اس کے بعد صحابہ و تابعین کے ادوار میں غذائی اجناس ہی بطور قیمت استعمال ہوتی تھیں، وہ لوگ غذائی اجناس ہی کا آپس میں تبادلہ کرتے تھے۔
کبھی غلہ و اناج کا آپس میں تبادلہ ہوتا، کبھی اناج کا سونے، چاندی کے ساتھ تبادلہ ہوتا تھا اور اس وقت جو بھی شخص کوئی بھی جنس لے کر بازار جاتا، اسے اس جنس کے صحیح دام ملتے اور اس کے عوض مناسب مقدار میں چیز مل جاتی تھی، لیکن ہمارے زمانے میں چونکہ غذائی اجناس کا تبادلہ تقریبا ختم ہو چکا ہے اور ہر شے کو روپے کے عوض ہی بیچا اور خریدا جاتا ہے تو آج اگر کسی مسکین کو آپ غذائی جنس صدقہ فطر میں ادا کریں اور اس کے پاس وہ جنس پہلے سے ہی بقدر ضرورت موجود ہو اور وہ اسے بیچنے کے لیے مارکیٹ کا رخ کرے تو اسے اس جنس کی کم بلکہ کم ترین قیمت ملتی ہے تو ایسے میں اگر آپ خود اس مسکین کے وکیل بن جائیں اور اسے اسی جنس کی بہتر، بلکہ بہترین قیمت ادا کر دیں، تاکہ وہ اپنی دیگر ضروریات زندگی پوری کر سکے تو اس میں کیا حرج ہے؟

یہی وجہ ہے کہ زمانہ کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اب تقریباً تمام ہی مکاتب فکر کا اتفاق ہے کہ عصر حاضر میں غلہ واناج کے بدلے قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔

اصحاب فقہ المنھجی (مجموعہ شوافع مولفین) نے احناف کے مسئلہ پر عمل کرتے ہوئے قیمت ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔
(ج:1،ص:230، ط: دار القلم، دمشق)

عالم عرب کے مشہور محقق دکتور یوسف قرضاوی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
جو بھی شخص حالات حاضرہ اور موجود زمانے میں انصاف کی نظر سے غور و فکر کرے گا تو وہ جان لے گا کہ غذائی اجناس کے ذریعے سے صدقہ فطر ادا کرنا صرف محدود معاشرے کے اندر ممکن ہے، جہاں غذائی اجناس بکثرت ہوتی ہیں اور وہاں فقیر کی بھی یہی صورتحال ہوتی ہے کہ وہ غذائی اجناس کا محتاج ہوتا ہے اوراسی سے انتفاع حاصل کرتا ہے ، لیکن جو بڑی گنجان آبادیاں ہیں، وہ غذائی اجناس کا وجود اس طور پر نادر ہوتا یے کہ صدقہ فطر ادا کرنے والے کو تلاش میں قدرے مشکل ہوتی ہےاور فقیر کو بھی اس کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی ہے، کیونکہ وہاں مشکل یہ پیش آئے گی کہ وہ اس کو پسوائے، پھر آٹا بنائے اور پھر اس کی روٹی پکائے۔
لہذا جو بھی شخص بنظر انصاف دیکھے تو اس کو کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں ہوگا کہ ان حالات میں صدقہ فطر میں غذائی اجناس کے بجائے قیمت ادا کرنا زیادہ بہتر اور اولی ہے۔

اور دکتور یوسف قرضاوی فقہ الزكاة میں لکھتے ہیں کہ
یہ بات غور وفکر کے بعد میرے سامنے واضح ہوئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غذائی اجناس سے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دو وجہ سے دیا:
پہلی وجہ یہ ہے کہ غذائی اجناس سے صدقہ فطر ادا کرنے میں لوگوں کے لیے آسانی تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کرنسی کی قیمتیں مختلف ہوتی رہتی ہیں اور اس کی قیمت خرید ہر زمانے کے اعتبارسے اوپر، نیچے ہوتی رہتی ہیں اور اس کے برعکس غلے کا ایک صاع انسانی ضرورت کو پوار کرتا ہے (اور اس کی قیمت بھی ڈی ویلیو نہیں ہوتی ہے ) تو جس طرح اس دور میں ان غذائی اجناس کے بجائے قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنے میں دینے والے کے آسانی ہوتی تھی اور لینے والے کےلیے زیادہ فائدہ مند تھا ( تو بالکل اسی طرح آج غذائی اجناس کے بجائے قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنے میں دینے والے کے آسانی ہے اور لینے والے کےلیے زیادہ فائدہ مند ہے۔
( فقہ الزكاة، ج:2، ص:449،ط: الرسالة العالمية)

سابق شیخ جامعہ ازھر محمود شلتوت نے بھی قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنے کے جواز کا فتوی دیا ہے

وہ فرماتے ہیں کہ قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنا کافی ہے، کیوں کہ بسا اوقات قیمت فقیر کے لیے زیادہ باعث راحت اور فائدہ مند ہوتی ہے اور اس میں فقیر کی مختلف ضروریات کو پورا کرنے کی رعایت بھی ہے، جن کو فقیر خود دوسروں کی بنسبت اچھی طرح سے جانتا ہے اور کبھی اس کو اجناس کے تبادلہ کا موقع نہیں ملتا، لہذا قیمت کو حاجت دور کرنے میں زیادہ دخل ہے اور میں( شیخ ازھر ) اپنے لیے یہ بات مستحسن سمجھتا ہوں اور پسند کرتا ہوں کہ میں جب شہر میں ہوں تو قیمت سے صدقہ فطر ادا کروں اور اگر دیہات میں ہوں تو گندم، کشمش، کھجور اور چاول وغیرہ سے صدقہ فطر ادا کروں۔

مشہور غیر مقلد عالم اور محدث شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ تابعین کے آثار نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"ان آثار کی رُو سے صدقۂ فطر میں نقدی (روپے وغیرہ) دینا جائز ہے اور یہ جواز بھی ان لوگوں کے لئے صرف خاص سمجھنا چاہئے، جو یورپ (مثلاً برطانیہ) اور امریکہ وغیرہما میں رہتے ہیں، تاکہ غریب ممالک (مثلاً پاکستان، ہندوستان) میں ان کے مسکین رشتہ داروں کے ساتھ تعاون اور طعمۃ للمساکین ہوجائے، ورنہ بہتر یہی ہے کہ اجناس مثلاً گندم، آٹا اور کھجور وغیرہ سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے، اور پاکستان میں ہمارا اسی پر عمل ہے۔"
(فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام، ج: 3 ،ص: 154)

اس ساری تفصیل سے یہ واضح ہوا کہ احناف کا قول راجح ہے اور موجودہ زمانے میں اس پر عمل کرنے میں آسانی ہے اور فقراء کے حال کی رعایت بھی ہے، اس لیے غذائی اجناس کے بجائے قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنا نہ صرف جائز، بلکہ بہتر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی الصحیح البخاری:

عن أبي سعيدٍ الخُدريِّ رَضِيَ اللهُ عنه قال: كنَّا نُخرِجُها على عَهدِ رَسولِ الله صلَّى الله عليه وسلَّم صاعًا مِن طعامٍ، وكان طعامُنا التَّمرَ والشَّعيرَ، والزَّبيبَ والأقِط۔

(بخاری،حدیث نمبر :1510)

وفی سنن الدارقطنی:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ , وَقَالَ: أَغْنُوهُمْ فِي هَذَا الْيَوْمِ۔

(ج:3،ص:89،ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)

و فى فتح الباري:

قَوْلُهُ بَابُ الْعَرْضِ فِي الزَّكَاةِ)
أَيْ جَوَازُ أَخْذِ الْعَرْضِ وَهُوَ بِفَتْحِ الْمُهْمَلَةِ وَسُكُونِ الرَّاءِ بَعْدَهَا مُعْجَمَةٌ وَالْمُرَادُ بِهِ مَا عَدَا النَّقْدَيْنِ قَالَ بن رَشِيدٍ وَافَقَ الْبُخَارِيُّ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ الْحَنَفِيَّةَ مَعَ كَثْرَةِ مُخَالَفَتِهِ لَهُمْ لَكِنْ قَادَهُ إِلَى ذَلِكَ الدَّلِيلُ

(ج:3،ص:312،ط: دار المعرفة،بيروت)

وفی الھدایة:

والدقيق أولى من البر والدراهم أولى من الدقيق فيما يروى عن أبي يوسف رحمه الله وهو اختيار الفقيه أبي جعفر رحمه الله لأنه أدفع للحاجة وأعجل به

(ج:1،ص: 115،ط: دار احياء التراث العربي)

وفی حاشیة مراقي الفلاح :

ويجوز دفع القيمة وهي أفضل عند وجدان ما يحتاجه لأنها أسرع لقضاء حاجة الفقير وإن كان زمن شدة فالحنطة والشعير وما يؤكل أفضل من الدراهم 

(ص:273،ط: المكتبة العصرية)

وفی المبسوط للسرخسي:

فَإِنْ أَعْطَى قِيمَةَ الْحِنْطَةِ جَازَ عِنْدَنَا؛ لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ حُصُولُ الْغِنَى وَذَلِكَ يَحْصُلُ بِالْقِيمَةِ كَمَا يَحْصُلُ بِالْحِنْطَةِ، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - لَا يَجُوزُ، وَأَصْلُ الْخِلَافِ فِي الزَّكَاةِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ الْأَعْمَشُ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - يَقُولُ: أَدَاءُ الْحِنْطَةِ أَفْضَلُ مِنْ أَدَاءِ الْقِيمَةِ؛ لِأَنَّهُ أَقْرَبُ إلَى امْتِثَالِ الْأَمْرِ وَأَبْعَدُ عَنْ اخْتِلَافِ الْعُلَمَاءِ فَكَانَ الِاحْتِيَاطُ فِيهِ، وَكَانَ الْفَقِيهُ أَبُو جَعْفَرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - يَقُولُ: أَدَاءُ الْقِيمَةِ أَفْضَلُ؛ لِأَنَّهُ أَقْرَبُ إلَى مَنْفَعَةِ الْفَقِيرِ فَإِنَّهُ يَشْتَرِي بِهِ لِلْحَالِ مَا يَحْتَاجُ إلَيْهِ، وَالتَّنْصِيصُ عَلَى الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ كَانَ؛ لِأَنَّ الْبِيَاعَاتِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ بِالْمَدِينَةِ يَكُونُ بِهَا فَأَمَّا فِي دِيَارِنَا الْبِيَاعَاتُ تُجْرَى بِالنُّقُودِ، وَهِيَ أَعَزُّ الْأَمْوَالِ فَالْأَدَاءُ مِنْهَا أَفْضَلُ.

(ج:3، ص: 108، دار المعرفة )

وفی بدائع الصنائع:

وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يَجُوزُ إخْرَاجُ الْقِيمَةِ وَهُوَ عَلَى الِاخْتِلَافِ فِي الزَّكَاةِ.
وَجْهُ قَوْلِهِ إنَّ النَّصَّ وَرَدَ بِوُجُوبِ أَشْيَاءَ مَخْصُوصَةٍ، وَفِي تَجْوِيزِ الْقِيمَةِ يُعْتَبَرُ حُكْمُ النَّصِّ وَهَذَا لَا يَجُوزُ وَلَنَا أَنَّ الْوَاجِبَ فِي الْحَقِيقَةِ إغْنَاءُ الْفَقِيرِ لِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَغْنُوهُمْ عَنْ الْمَسْأَلَةِ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ» ، وَالْإِغْنَاءُ يَحْصُلُ بِالْقِيمَةِ بَلْ أَتَمَّ وَأَوْفَرَ؛ لِأَنَّهَا أَقْرَبُ إلَى دَفْعِ الْحَاجَةِ وَبِهِ تَبَيَّنَ أَنَّ النَّصَّ مَعْلُولٌ بِالْإِغْنَاءِ وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي تَجْوِيزِ الْقِيمَةِ يُعْتَبَرُ حُكْمُ النَّصِّ فِي الْحَقِيقَةِ

(ج: 2، ص: 273، ط: دار الكتب العلمية )

وفی الھندیة:

ثُمَّ الدَّقِيقُ أَوْلَى مِنْ الْبُرِّ، وَالدَّرَاهِمُ أَوْلَى مِنْ الدَّقِيقِ لِدَفْعِ الْحَاجَةِ، وَمَا سِوَاهُ مِنْ الْحُبُوبِ لَا يَجُوزُ إلَّا بِالْقِيمَةِ وَذَكَرَ فِي الْفَتَاوَى أَنَّ أَدَاءَ الْقِيمَةِ أَفْضَلُ مِنْ عَيْنِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ.

(ج: 1، ص:192،ط:دارالفکر )

وفی الفقه المنهجي على مذهب الإمام الشافعي رحمه الله تعالى:

ومذهب الإمام الشافعي أنه لا تجزئ القيمة، بل لا بدّ من إخراجها قوتاً من غالب أقوات ذلك البلد. إلا أنه لا بأس باتباع مذهب الإمام أبي حنيفة رحمه الله تعالى في هذه المسألة في هذا العصر، وهو جواز دفع القيمة، ذلك لأن القيمة أنفع للفقير اليوم من الفقير نفسه، واقرب إلى تحقيق الغاية المرجوة.

(ج:1،ص:230، ط: دار القلم، دمشق)

حكم إخراج زكاة الفطر قيمة (نقدا) لدکتور محمود بن إبراهيم الخطيب
وتكفي قيمة الحبوب من النقود وربما كانت القيمة النقدية أرفق للصائم، وأنفع للفقير، ونظراً لتنوع حاجة الفقير وهو أدرى بها من غيره، وقد لا يتيسر له الاستبدال، فكانت القيمة أدخل في قضاء الحاجة، والذي استحسنه وأختاره لنفسي، أني إذا كنت في المدينة أخرجت القيمة، وإذا كنت في القرية بعثت بالتمر والزبيب والبر والأرز ونحوها هدية المسلم لأخيه في شهر التكريم وعيد السرور"

(ص: 259، ط:الجامعة الإسلامية المدينة المنورة)

وفیه ايضا:

فقد جاء في موسوعة فقه سفيان الثوري: "لا يشترط إخراج التمر أو الشعير أو البر في زكاة الفطر بل لو أخرج قيمتها مما هو أنفع للفقير جاز لأن المقصد منها إغناء الفقراء عن المسألة وسد حاجتهم في هذا اليوم

(ص:256)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 635
ghizai ajnas k / kay bajaye qeemat sai sadqa fitar adaa karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sadqa-tul-Fitr (Eid Charity)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com