عنوان: دوسرے کی طرف سے صدقہ فطر اور زكوة ادا کرنے کا حکم(104389-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! اگر ایک صاحب نصاب شخص باقاعدگی سے زکوة و صدقہ فطر ادا کر رہا ہو اور ساتھ ہی اس کے والد یا بڑے بھائی بھی علیحدہ سے اس شخص کی جگہ زکوۃ و صدقہ فطر ادا کر رہے ہوں، تو ایسے میں اگر وہ شخص (جو صاحب نصاب ہے) زکوة و صدقہ فطر ادا کرنا بند کر دے، تو کیا والد و بھائی کی طرف سے ادا کی گئی زکوة و صدقہ فطر اس کی طرف سے ادا شمار ہو گی یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ کسی شخص کا دوسرے کی طرف سے صدقہ فطر اور زکوٰة ادا کرنے کے لیے اجازت لینا یا دینا ضروری ہے، اگر اجازت اور حکم کے بغیر صدقہ فطر یا زكوة ادا کی تو صدقہ فطر اور زكوة ادا نہیں ہوگی، لہذا صورت مسئولہ میں بڑے بھائی یا والد کا اس شخص کی طرف سے صدقہ فطر اور زكوة ادا کرنے کے لیے اجازت لینا یا اس شخص کا ان کو اجازت دینا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی بدائع الصنائع:

ﺃﻥ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻋﺒﺎﺩﺓ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﻭاﻟﻌﺒﺎﺩﺓ ﻻ ﺗﺘﺄﺩﻯ ﺇﻻ ﺑﺎﺧﺘﻴﺎﺭ ﻣﻦ ﻋﻠﻴﻪ ﺇﻣﺎ ﺑﻤﺒﺎﺷﺮﺗﻪ ﺑﻨﻔﺴﻪ، ﺃﻭ ﺑﺄﻣﺮﻩ، ﺃﻭ ﺇﻧﺎﺑﺘﻪ ﻏﻴﺮﻩ ﻓﻴﻘﻮﻡ اﻟﻨﺎﺋﺐ ﻣﻘﺎﻣﻪ ﻓﻴﺼﻴﺮ ﻣﺆﺩﻳﺎ ﺑﻴﺪ اﻟﻨﺎﺋﺐ۔
(ج:2، ص: 53،ط: دارالکتب العلمیہ )

وفی الھندیة:

ﻭﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺃﻥ ﻳﻌﻄﻲ ﻋﻦ ﻏﻴﺮ ﻋﻴﺎﻟﻪ ﺇﻻ ﺑﺄﻣﺮﻩ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ.، ﻭﻻ ﻳﺆﺩﻱ ﻋﻦ ﺃﺟﺪاﺩﻩ ﻭﺟﺪاﺗﻪ ﻭﻧﻮاﻓﻠﻪ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﺒﻴﻴﻦ.۔۔۔۔ﻭاﻷﺻﻞ ﺃﻥ ﺻﺪﻗﺔ اﻟﻔﻄﺮ ﻣﺘﻌﻠﻘﺔ ﺑﺎﻟﻮﻻﻳﺔ ﻭاﻟﻤﺆﻧﺔ ﻓﻜﻞ ﻣﻦ ﻛﺎﻥ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻻﻳﺘﻪ، ﻭﻣﺆﻧﺘﻪ ﻭﻧﻔﻘﺘﻪ ﻓﺈﻧﻪ ﺗﺠﺐ ﻋﻠﻴﻪ ﺻﺪﻗﺔ اﻟﻔﻄﺮ ﻓﻴﻪ، ﻭﺇﻻ ﻓﻼ ﻛﺬا ﻓﻲ ﺷﺮﺡ اﻟﻄﺤﺎﻭﻱ۔

(ج:1، ص: 193،ط: دارالفکر بیروت۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 438
dosre / doosrey ki taraf se / sey dadqa fitar or zakat / zakaat ada / adaa karne / karney ka hokom / hukum / hukom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sadqa-tul-Fitr (Eid Charity)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com