سوال:
امیم ( ہمزہ کے زبر اور میم کے زیر کے ساتھ) کا مطلب کیا ہے؟ نیز یہ نام رکھنا کیسا ہے؟ اگر رکھ لیا ہو اور کافی عرصہ گزرگیا تو اس کیا اسے تبدیل کرنا پڑے گا؟
جواب: عربی زبان میں لفظ امیم (Ameem)کے دو معنی ہیں : (1) گدی پر چوٹ کھانے کی وجہ سے بڑبڑانے والا(2) خوش قامت۔(القاموس الوحید)
دوسرے معنی کے لحاظ سے امیم نام رکھنا اگرچہ جائز ہے، لیکن چونکہ اس میں پہلے معنی کا بھی احتمال ہے، اور پہلے معنی کے لحاظ سے امیم کا معنی نامناسب ہے، لہذا اس طرح کا نام رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے، بلکہ اس کے بجائے انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ عظام رضی اللہ عنہم کے نام یا کوئی بھی اچھے معنی والا نام رکھنا چاہیے۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے : عن ابی الدرداء رضي اللّه عنه قال: قال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم: "إنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ القِيامَةِ بأسْمائكُمْ وأسماءِ آبائِكُمْ فأحْسِنُوا أسْماءَكُمْ۔ ( سنن ابی داود، ج7، ص 303، باب فی تغییر الاسماء، حدیث نمبر : 4948، ط: دارالرسالة العالمیة )
ترجمہ : قیامت کے دن تم کو تمہارے اور تمہارے باپ کے ناموں سے پکارا جائے گا، لہذا تم اپنے اچھے نام رکھو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المعجم الوسیط: (27/1، ط: دار الدعوة)
(الأميم) من يهذي لإصابة أم رأسه والحسن القامة
الموسوعة الفقھیة الکویتیة: (311/11، ط: دار السلاسل)
الأصل جواز التسمية بأي اسم إلا ما ورد النهي عنه۔۔وتستحب التسمية بكل اسم معبد مضاف إلى الله سبحانه وتعالى، أو إلى أي اسم من الأسماء الخاصة به سبحانه وتعالى؛ لأن الفقهاء اتفقوا على استحسان التسمية به. وأحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن. وقال سعيد بن المسيب: أحبها إلى الله أسماء الأنبياء.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی