عنوان: مصنوعات کی تشہیر کے لیے عورت کی تصویر لگانا اور سوشل میڈیا پر عورت کی تصویر والے پیج کو لائیک کرنے کا حکم (4475-No)

سوال: مفتی صاحب ! ایک تاجر فیس بک پر کپڑے کی تجارت کرتا ہے اور خواتین کی تصویر لگائی ہوئی ہے، تو اس کے پیج کو لائک کرنا کیسا ہے؟
مزید یہ بھی بتائیں کہ اس کا خواتین کی تصویر لگانا شرعاً کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ مصنوعات یا کاروبار کی تشہیر میں جاندار کی تصویر، خصوصاً عورتوں کی تصاویر کا استعمال کسی طرح بھی شرعاً درست نہیں ہے۔
احادیث مبارکہ میں تصویر سازی کرنے والوں کے بارے میں بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔
نیز ڈیجیٹل کیمرہ کی جس تصویر کی بعض علماء کرام نے گنجائش دی ہے، اس سے مراد اس چیز کی تصویر ہے جس کو خارج میں بغیر تصویر کے دیکھنا بھی جائز ہو اور جس چیز کو خارج میں دیکھنا جائز نہیں، اس کی تصویر یا ویڈیو بنانا بھی جائز نہیں، لہذا ڈیجیٹل یا نان ڈیجیٹل کیمرہ سے نامحرم کی تصویر لینا یا فحش اور ناجائز مناظر کی تصاویر محفوظ کرنا یا اسے سوشل میڈیا میں بطور "Status" (شناخت) اپنے پیج پر لگانا جائز نہیں ہے اور ایسے پیج کو لائیک کرنا، ان کے اس قبیح فعل کی تحسین و ستائش کرنے اور اور کسی درجہ میں گناہ سے تعاون کے زمرے میں آتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدة، الایة: 2)
وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلٰی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ....الخ

صحیح البخاری: (باب ما وطئ من التصاویر، رقم الحدیث: 5954، 75/4، ط: دار الکتب العلمیة)
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال: سمعت عبد الرحمن بن القاسم، وما بالمدينة يومئذ أفضل منه، قال: سمعت أبي، قال: سمعت عائشة رضي الله عنها: قدم رسول الله ﷺ من سفر، وقد سترتُ بقرام لي على سهوة لي فيها تماثيل، فلما رآه رسول الله ﷺ هتكه وقال: «أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله» قالت: فجعلناه وسادة أو وسادتين.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1929 Jun 08, 2020
masnoaat ki tasheer ke / kay liye orat li tasweer lagana or social medoa par / per orat ki tasweer wale / walay page ko like karne / karnay ka hukum, Ruling / Order to put up a picture of a woman to promote products and like a page with a woman's image / picture on social media

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.