سوال:
امام صاحب سے کسی نماز میں سہو ہو جائے، اور مسبوق آخری رکعت میں امام کے ساتھ شریک ہو، تو کیا اس شخص کیلئے امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا لازم ہے یا نہیں؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں مسبوق کے لئے بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا لازم ہے، البتہ سجدہ سہو کے لیے سلام نہیں پھیرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (باب سجود السہو، 546/2)
(والمسبوق یسجد مع إمامہ مطلقًا) سواء کان السہو قبل الاقتداء أو بعدہ ۔
قولہ (والمسبوق یسجد مع إمامہ) قید بالسجود لأنہ لا یتابعہ في السلام ، بل یسجد معہ ویتشہد ، فإذا سلم الإمام قام إلی القضاء ، فإن سلم ، فإن کان عامدا فسدت ، وإلا لا ؛ ولاسجود علیہ إن سلم سہوًا قبل الإمام أو معہ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی