سوال:
اگر جماعت کی نماز کے دوران مقتدی نے سجدے سے امام سے پہلے سر اٹھا دیا، تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جو شخص امام سے پہلے (رکوع و سجود سے) سر اٹھاتا ہے کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر جیسا بنا دے؟"٬ چونکہ حدیث مبارکہ میں رکوع وسجود م یں امام سے پہلے سر اٹھانے کو منع کیا گیا ہے،لہذا امام سے پہلے سجدے سے سر اٹھانا مکروہ اور مذموم عمل ہے٬ اس سے بچنا چاہیے، البتہ ایسی صورت میں کراہت کے ساتھ نماز ادا ہوجائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (کتاب الاذان، باب اثم من رفع راسه قبل الامام)
"أما یخشی أحدکم أو ألا یخشی أحدکم اذا رفع رأسہ قبل الامام أن یجعل اللّٰہ رأسہ رأس حمار أو یجعل اللّٰہ صورتہ صورةَ حمار"
الهندية: (107/1، ط: دار الفکر)
"ويكره للمأموم أن يسبق الإمام بالركوع والسجود وأن يرفع رأسه فيهما قبل الإمام. كذا في محيط السرخسي"
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی