عنوان: کیا مزارات کے لنگر سے کھانا کھانا جائز ہے؟(106176-No)

سوال: آج کل بزرگوں کے مزارات پر لنگر یعنی دیگوں سے بریانی وغیرہ کھانا تقسیم کیا جاتا ہے، اور زائرین بڑے شوق سے اس کھانے کو کھاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا مزارات کے لنگر سے کھانا کھانا جائز ہے، جبکہ مزارات پر فاسد عقیدے والے لوگ بھی لنگر تقسیم کرتے ہیں؟

جواب: اگر مزارات پر تقسیم ہونے والے کھانے کے بارے میں یہ یقینی طور پر معلوم ہو کہ یہ کھانا اس بزرگ کے نام پر یا اس کی تعظیم کی خاطر تقسیم ہو رہا ہے، تو اس کھانے کو کھانا حرام ہے، کیونکہ یہ غیر اللہ کے نام پر تقسیم ہو رہا ہے، اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور یا غیر اللہ کے نام پر منت مانا ہوا کھانا کھانا جائز نہیں ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مزارات پر مہمان نوازی یا صدقہ کے طور پر کھانا تقسیم کر رہا ہو، تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ چونکہ عام طور پر مزارات بدعات اور شرکیہ افعال سے خالی نہیں ہوتے، اور خاص طور پر مزارات پر لنگر کا انتظام صحیح العقیدہ لوگوں کے پاس نہیں ہوتا ہے، اس لئے غیر اللہ کے نام پر کھانا تقسیم ہونے کا شبہ موجود ہوتا ہے، لہذا عام طور پر مزارات کا کھانا "مشتبہ مال" کے حکم میں ہے، اس وجہ سے احتیاطا اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:
مطلب في النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام من شمع أو زيت أو نحوه (قوله تقربا إليهم) كأن يقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب أو الفضة أو من الطعام أو الشمع أو الزيت كذا بحر (قوله باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق. ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك.
ومنه أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر، اللهم إلا إن قال يا الله إني نذرت لك إن شفيت مريضي أو رددت غائبي أو قضيت حاجتي أن أطعم الفقراء الذين بباب السيدة نفيسة أو الإمام الشافعي أو الإمام الليث أو اشترى حصرا لمساجدهم أو زيتا لوقودها أو دراهم لمن يقوم بشعائرها إلى غير ذلك مما يكون فيه نفع للفقراء والنذر لله عز وجل وذكر الشيخ إنما هو محل لصرف النذر لمستحقيه القاطنين برباطه أو مسجده فيجوز بهذا الاعتبار۔
(ج: 2، ص: 439، ط: سعید)

وفي الهندية:
وفي المشكل ذبح عند مرأى الضيف تعظيما له لا يحل أكلها وكذا عند قدوم الأمير أو غيره تعظيما، فأما إذا ذبح عند غيبة الضيف لأجل الضيافة فإنه لا بأس به، كذا في الجوهرة النيرة.
(ج: 5، ص: 286، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 966
kia mazarat kay langar say khana khana jaiz hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Bida'At & Customs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.