سوال:
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ "پی ایم ای ایکس" (PMEX) پاکستان گورنمنٹ کی آن لائن ٹریڈنگ کی ایپلیکیشن ہے اس میں اگر سونا کی تجارت اسلامی اصولوں کی بنیاد پر کرنی ہو تو ایک اکاؤنٹ موجود ہے جسے شریعہ کمپلائنٹ اکاؤنٹ کہتے ہیں، آپ حضرات کے علم میں ہوگا اس کے بارے میں فتوی لینا ہے کہ یہ حلال ہے یا حرام ؟
جس میں بروکر کے ذریعے کام کیا جاتا ہے اور بروکر سونا لینے پر اور بیچنے پر کچھ چارجز لیتا ہے جو کہ ہماری فزیکل مارکیٹ کے اندر پرائس سے کم ہوتے ہیں، مثلا: اگر میں اپنے بازار سے سونا خریدتا ہوں تو جو اس دن ریٹ ہوتا ہے اس ریٹ پر مجھے سونا نہیں دیا جاتا بلکہ جو اس وقت عالمی مارکیٹ کا ریٹ ہوتا ہے اس پر مجھے سونا دیا جاتا ہے اور لینے میں اور واپس بیچنے میں پانچ ہزار روپے فی تولہ کا ڈفرنس ہوتا ہے یعنی اگر میں بیچوں گا تو پانچ ہزار روپے سستا لیں گے بے شک میں ایک منٹ بعد دے دوں اور لوں گا تو پانچ ہزار روپے مہنگا ملے گا، آن لائن موجودہ ریٹ اس پر بروکر کی کچھ فیسز ہوتی ہیں اور گورنمنٹ کی فیس ہوتی ہے جو کہ فزیکل مارکیٹ سے کم ہوتی ہے اور یہ آن لائن خریدا ہوا سونا گورنمنٹ کی تحویل میں ہوتا ہے جس کا ڈیجیٹل ملکیت نامہ بما گورنمنٹ کی اتھارٹی کے مل جاتا ہے اور گورنمنٹ اس کو سنبھال کر رکھنے کی یعنی سیف رکھنے کی فیس بھی لیتی ہے اور اگر میں اس سونے کو منگوانا چاہوں تو منگوا سکتا ہوں۔ مسئلہ بتا کر ممنون فرمائیں شکریہ
جواب: واضح رہے کہ شرعاً خرید و فروخت کے صحیح ہونے کے لیے بنیادی شرائط میں سے یہ بھی ہیں کہ فروخت کی جانے والی چیز موجود ہو، معلوم و متعیّن ہو اور فروخت کنندہ کی ملکیت اور قبضے میں ہو، جبکہ ہماری معلومات کے مطابق، ’’پی ایم ای ایکس‘‘ (PMEX) کے ذریعے کی جانے والی خرید و فروخت میں عموماً ان امور کا خیال نہیں رکھا جاتا، لہٰذا مذکورہ پلیٹ فارم کے ذریعے سونا خریدنے سے اجتناب لازم ہے۔
البتہ اگر واقعی مذکورہ ادارے نے سونے کی تجارت کا کام مستند علماء کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق شروع کر دیا ہو تو ان علماء کرام سے رجوع کرکے اس سلسلے میں مزید رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*صحیح مسلم: (1159/3، رقم الحدیث: 1525، ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)*
"عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: من ابتاع طعامًا فلا یبعه حتی یستوفیه، قال ابن عباس: وأحسب کل شيء مثله"
*البحر الرائق شرح كنز الدقائق مع منحة الخالق وتكملة الطوري: (5/ 279، ط: دار الكتاب الإسلامي)*
وأما شرائط المعقود عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی