ماہ ِ رجب کے فضائل ، مسائل اور رسومات و منکرات
(دارالافتاء الاخلاص)

ماہِ رجب اسلامی سال کا ساتواں قمری مہینہ ہے۔
’’رجب ‘‘ کا لغوی معنی اور وجہ تسمیہ :
’’رجب ‘‘ یہ ترجیب سے نکلا ہے ، جس کا معنی ہے “تعظیم کرنا ‘‘(۱)
ماہ رجب کو ’’رجب‘‘ ا سی لیے کہا جا تا ہے کہ عرب کے لوگ اِس مہینے کی تعظیم کرتے تھے اور اِس میں جنگ و جدال کوحرام سمجھتے تھے۔(۲)

فائدہ :
۱۔ ماہ ِ رجب کو ’’شھر الاصم ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ،’’الاصم ‘‘ کے معنی ’’بہرے ‘‘ کے آتے ہیں ۔(٣)
ماہ ِ رجب کو ’’شھر الاصم ‘‘ اس لیے کہاجاتا تھا کہ اس مہینے میں جنگ و جدال نہ ہونے کی وجہ سے ہتھیاروں کی آوازیں نہیں آتی تھی ، گویا کہ لڑائی جھگڑا نہ ہونے اور ہتھیاروں کی آوازیں سنائی نہ دینے کی وجہ سے لوگوں کی حالت بہروں کی طرح ہوجاتی تھی۔(٤)
۲۔ احادیث مبارکہ میں اس مہینے کو ’’رجب مضر‘‘ کہا گیا ہے ۔(۵) ’’مضر‘‘ دارالاصل عرب کے ایک قبیلے کا نام ہے ، یہ لوگ رجب کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے ، اس لیے ان کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس مہینے کو ’’رجب مضر‘‘ کہا گیا۔(۶)

فضائل ماه ِرجب :
’’رجب ‘‘ کا مہینہ ان چار مہینوں میں سے ہے، جن کو اللہ تعالی نے "اشہُر حُرُم "یعنی حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔
سورة توبہ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جو الله کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے، جس دن الله نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا، ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔

اس کی تفصیل حضرت ابو بکرہؓ کی روایت میں اس طرح آئی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آگیا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ تین تو لگاتار یعنی ذیقعدہ، ذی الحجۃ، محرم اور چوتھا رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔(۷)

ان مہینوں کو اشہُر حُرُم کہنے کی وجہ:
ان مہینوں کو حرمت والا مہینہ دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا ہے:
ایک اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں، ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے، البتہ ان میں سے پہلا حکم تو شریعتِ اسلام میں منسوخ ہوگیا، جبکہ دوسرا حکم ادب واحترام اور عبادت گزاری کے متعلق اب بھی باقی ہے۔(۸)

ماہ رجب کے ابتداء کی دعا:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب’’ رجب‘‘ کا مہینہ شروع ہوتا ،تو آپ ﷺ یوں دعا فرماتے تھے:
أَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ
ترجمہ:اے اللہ! ہمارے لیے ماہِ رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما ئیے اور ہمیں رمضان تک پہنچائیے۔(۹)

فائدہ:
واضح رہے کہ مذکورہ بالاحدیث پر بعض محدثین کرام نے کلام کیا ہے، اور اس روایت کی سند میں ’’زائدہ بن ابی الرقاد ‘‘ اور ان کے شیخ ’’ زیاد بن عبداللہ النمیری‘‘ کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(تفصیل کے لیے حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔)(۱۰)
البتہ علامہ مناوی ؒنے فیض القدیر میں لکھا ہے کہ آپ ﷺ سے رجب کی فضیلت کے متعلق صرف یہ بات ثابت ہے کہ جب’’ رجب‘‘ کا مہینہ شروع ہوتا ،تو آپ ﷺ یوں دعا فرماتے تھے:
’’ أَللّٰھمَّ بَارِكْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ ‘‘، اور اس کے علاوہ کوئی بات ثابت نہیں ہے۔ (۱۱)
اور علامہ ابن حجر ہیتمی ؒ نے ’’ماہ رجب ‘‘ کے شروع ہونے پر اس دعا کے پڑھنے کو سنت اور حافظ ابن رجب حنبلیؒ نے مستحب قراردیا ہے۔(۱۲)(۱۳)

۲۔ محدثین کرام نے مذکورہ روایت کو اگرچہ ضعیف قرار دیا ہے، لیکن فضائلِ اعمال کے سلسلے میں ایسی روایت پر عمل کیا جاسکتا ہے اور مذکورہ دعا کے الفاظ معنی اور مفہوم کے لحاظ سے درست ہیں ، اور سلف کا اس پر عمل بھی ہے، لہذا اس دعا کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(۱۴)

ماہ رجب میں رمضان کا مہینہ پانے کی دعا کرنا
اگر کوئی مسلمان یہ دعا کرتا ہے کہ یا اللہ! مجھے ماہِ رمضان نصیب فرما، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ معلی بن فضلؒ کہتے ہیں: سلف صالحین چھ ماہ تک اللہ تعالی سے دعا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ! ہمیں ماہِ رمضان نصیب فرما، اور چھ ماہ تک یہ دعا کرتے تھے کہ یا اللہ! جو عبادتیں ہم نے کیں ہیں ،وہ ہم سے قبول فرما "
یحیی بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"سلف صالحین کی دعا یہ ہوا کرتی تھی: "یا اللہ! مجھے رمضان تک پہنچا دے، اور رمضان مجھ تک پہنچا دے، اور پھر مجھ سے اس میں کی ہوئی عبادات قبول بھی فرما"
(۱۵)

ماہ رجب میں روزے رکھنا:
ماہ رجب اور بقیہ "اشہُر حُرُم" میں نفلی روزے رکھنا باعث فضیلت ہے:۔
مجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر چلے گئے اور ایک سال بعد دوبارہ آئے، اس مدت میں ان کی حالت و ہیئت بدل گئی تھی، کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: “کون ہو؟” جواب دیا: میں باہلی ہوں، جو کہ پہلے سال بھی حاضر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:”تمہیں کیا ہو گیا؟ تمہاری تو اچھی خاصی حالت تھی؟“ جواب دیا: جب سے آپ ﷺکے پاس سے گیا ہوں، رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اپنے آپ کو تم نے عذاب میں کیوں مبتلا کیا؟” پھر فرمایا: “صبر کے مہینہ (رمضان) کے روزے رکھو، اور ہر مہینہ میں ایک روزہ رکھو” انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے، کیونکہ میرے اندر طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھو“، انہوں نے کہا: اس سے زیادہ کی میرے اندر طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھ لو“انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور (باقی) چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور (باقی) چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور (باقی) چھوڑ دو”،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ کیا، پہلے بند کیا ،پھر چھوڑ دیا۔(۱۶)

فائدہ:
محدثین کرام نے لکھا ہے کہ تین انگلیوں سے اشارہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ "اشہُر حُرُم" کےجتنے روزے چاہو رکھو، لیکن تین دن مسلسل رکھنے کے بعد ایک دن یا دو دن چھوڑ دیا کرو۔
بعض محدثین نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ "اشہُر حُرُم" میں تین دن روزے رکھو اور تین دن چھوڑ دو ، پھر تین دن روزے رکھ کر تین دن چھوڑ دو، پھر تین دن روزے رکھ کر تین دن چھوڑ دو اور یہ مطلب زیادہ بہتر ہے۔(۱۷)
اس حدیث کے پیش نظر فقہائے کرام نے ان چار مہینوں میں نفلی روزے رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے(۱۸)

’’ماہ رجب‘‘ کے روزوں سے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ:
بعض روایات میں ’’ماہ رجب‘‘میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، جیسا کہ مصنف ابن عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ رجب کے روزوں سے رکھنے سے منع فرمایا کرتے تھے، تاکہ اس كوتہوار نہ بنالیا جائے ۔(۱۹)
حضرت خرشہ بن حر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ وہ رجب کے روزہ داروں کو تنبیہ فرماتے تھے، یہاں تک کہ ہاتھ پکڑ کر کھانا کھلاتے تھے ، اورفرماتے تھے یہ رجب ، رجب کیا چیز ہے ؟ رجب وہ مہینہ ہے، جس کی جاہلیت کے زمانے میں تعظیم کی جاتی تھی ، لیکن اسلام کی آمد کے بعد اِس کو ترک کردیا۔(۲۰)
ان روایا ت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’’ماہ رجب‘‘میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ’’ماہ رجب‘‘کے روزوں کی دو حیثیتیں ہیں :
ایک حیثیت یہ کہ اس ماہ کی تعظیم میں حد سے زیادہ غلو کیاجائے ، جیسا کہ کہ اہلِ جاہلیت رجب کی تعظیم میں غلوکرتے تھے یا لازم سمجھ کر اس مہینے کی تعظیم کی نیت سے روزے رکھے جائیں ،یا مخصوص ایام میں روزے رکھنے کے من گھڑت فضائل بیان کیے جائیں ۔
دوسری حیثیت رجب کے شهر حرام ہونے کی ہے، تو پہلی حیثیت سے ’’ماہ رجب ‘‘کے روزےرکھنے سے منع کیا اور دوسری حیثیت سے ’’ماہ رجب‘‘میں دوسرے ’’ اشھر حرم ‘‘ کی طرح روزہ رکھنا مستحب ہے،(۲۱)
چنانچہ فتاوٰی ھندیہ میں ہے : اورمستحب روزے کئی قسم کے ہیں: اوّل محرم کے روزے ،دوسرے رجب کے روزے اورتیسرے شعبان اورعاشوراء کے دن کا روزہ(۲۲)

’’ماہ رجب‘‘میں عبادت کی فضیلت اور برے اعمال کے گناہ کی شدت:
ماہ رجب اور باقی حرمت والے مہینوں میں نیک اعمال کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زیادہ افضل ہے، اور ان مہینوں میں ظلم (گناہ) کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زیادہ سخت گناہ ہے۔

مفتی شفیع صاحب ؒ نے ’’معارف القرآن ‘‘میں لکھا ہے: "ان بابرکت مہینوں میں جو شخص عبادت کرتا ہے، اس کو دوسرے مہینوں میں بھی عبادت کی توفیق ہوجاتی ہے، اور جو شخص ان مہینوں میں گناہوں سے بچنے کی کوشش کرے گا، تو اس کے لیے سال کے باقی مہینے بھی گناہوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے"۔(۲۳)
اس لیے ان مہینوں میں عبادت کرنے اور گناہوں سے بچنے کے انوار و برکات سے فائدہ اٹھانے کی سعی و کوشش کرنی چاہیے۔

’’ماہ رجب‘‘کی خاص فضیلت:
ماہ رجب کی اتنی عمومی فضیلت تو ثابت ہے کہ وہ چار حرمت والے مہینوں میں شامل ہونے کی وجہ سے باقی مہینوں سے زیادہ قابل احترام اور متبرک ہے، لیکن بطورِ خاص ماہ رجب کی فضیلت میں کوئی بھی روایت ثابت نہیں ہے۔
حافظ ابن حَجر عسقلانیؒ نے اپنی کتاب ’’ تبیین العجب مما ورد فی فضل رجب ‘‘میں لکھا ہے کہ رجب کی فضیلت میں ، اِس کے روزوں کی فضیلت میں ، اِس کے کسی دِن میں خاص طور پر کوئی روزہ رکھنے کی فضیلت میں ، اور اِس کی کسی خاص رات میں قیام کرنے کے بارے میں کوئی ايسی صحیح حدیث نہيں ملتی ہے، جو قابل حُجت ہو۔(۲۴)

علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے فرماتے ہیں :’’خاص طور پر ماہ رجب کے متعلق کوئی صحیح ،حسن یا کم درجے کی ضعیف سنت وارد نہیں، بلکہ اس سلسلے میں وارد تمام روایات یا تو من گھڑت اورجھوٹی ہیں یا شدید ضعیف ہیں ۔ ‘‘(۲۵)

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے :’’رجب کے روزے اور اس کی کچھ راتوں میں قیام کے متعلق جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی ہیں ،وہ تمام جھوٹ اور بہتان ہیں ۔ ‘‘(۲۶)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ’’ ماہ رجب‘‘ کی کوئی بھی خاص فضیلت ثابت نہیں ،اورجن روایات میں اس کی کوئی بھی فضیلت مروی ہے، وہ تمام روایات ضعیف یا سخت ضعیف یا منکر اور موضوع (من گھڑت)ہیں۔
فائدہ :
واضح رہے کہ روزہ خود ایک نیک عمل ہے اور پھر رجب کا ”اشہُر حُرُم“ میں سے ہونا ،تو یہ دونوں مل کر عام دنوں سے زائد حصول ِ اجر کا باعث بن جاتے ہیں؛ لہٰذا اس مہینے میں کسی بھی دن کسی خاص متعین اجر کے اعتقاد کے بغیر روزہ رکھنا، یقیناً مستحب اور حصول ِخیر کا ذریعہ ہو گا۔

ماہ رجب کی قربانی:
اِسلام سے پہلے عرب رجب کی بہت تعظیم کرتے تھے اور اِس مہینے میں قُربانی بھی کیا کرتے تھے جِسے’’عِتیرۃ ‘‘کہتے تھے ، اسلام نے ان کے اِس عقیدے اور عمل کو باطل قرار دیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرع(کی رسم ) اور عتیرہ (کی رسم )کوئی چیز نہیں ہے اور فرع اونٹنی کے سب سے پہلے بچے کو کہتے ہیں، جسے (مشرکین) اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور عتیرہ رجب میں ہوا کرتا تھا۔
(بخاری، حدیث نمبر:5473)

رجب کی مخصوص نماز:
رجب کی پہلی جمعرات کی رات ، یا جمعہ کی رات، یا درمیانی رات ، یا آخری رات میں خاص مقرر شدہ طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے ، جس کو ’’ صلاۃ الرغائب‘‘ کہاجاتا ہے۔
واضح رہے کہ اس نفل نماز کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، اور اس بارے میں جو احادیث بیان کی جاتی ہیں ، وہ سب موضوع(من گھڑت ) ہیں ، فقہا ئے کرام نے اسے بدعت قرار دیا ہے۔

علامہ نووی رحمہ اللہ نے اس نماز کے بارے میں لکھا ہے کہ:" اللہ تعالى اس كے گھڑنے اور ايجاد كرنے والے كو تباہ و برباد كرے، كيونكہ يہ منكرات اور ان بدعات ميں سےہے، جو گمراہى اور جھالت ہيں، اور اس ميں كئى ايك ظاہر منكرات پائى جاتى ہيں۔۔۔۔ اس كى قباحت ، بطلان اور اس پر عمل كرنے والے كى گمراہى كے دلائل شمار نہيں كيے جا سكتے ہیں ۔(۲۷)
علامہ ابن رجب حنبلی ؒ نے اس نماز کے بارے میں لکھا ہے کہ: جمہور علماء کے نزدیک یہ نماز بدعت ہے اورمتقدمین تو اس نماز کو جانتے نہ تھے، کیونکہ یہ چارصدیوں کے بعد ظاہر ہوئی ۔(۲۸)
فقہائے کرام نےبھی اس پر سخت نکیر فرمائی ہے اور اسے بدعت قراردیا ہے۔
علامہ شامی نے لکھا ہے کہ اور اس مسئلہ ميں علامہ نور الدين المقدسى رحمہ اللہ كى " ردع الراغب عن صلاۃ الرغائب " كے نام سے ايك بہترين تصنیف ہے، جس ميں انہوں نے مذاہب اربعہ كے متقدمين اور متاخرين علماء كرام كےكلام كو جمع كيا ہے۔(۲۹)

زکوۃ ادا کرنے کے لیے رجب کے مہینے کو خاص کرنا:
بعض علاقوں میں زکوۃ ادا کرنے کے لیے رجب کے مہینے کو خاص کیا جاتا ہے اور اس مہینے میں زکوۃ نکالتے ہیں، حالانکہ شرعا زکوۃ کے واجب ہونے کا تعلق ’’رجب‘‘ کے ساتھ نہیں ہے ، بلکہ زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے، جب نصاب کے بقدر مال پر ایک سال مکمل ہوجائے، اور سال پورا ہوجائے تو زکوۃ ادا کرنا واجب ہے خواہ مہینہ کوئی بھی ہو۔
علامہ ابن رجب حنبلی ؒ لکھتے ہیں کہ سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور نہ ہی سلف میں معروف ہے۔(۳۰)

رجب کی روٹی:
تبارک کی روٹیاں:ماہ رجب میں کچھ لوگ جمعہ کے دن میٹھی روٹیاں بناتے ہیں اور ان پر اکتالیس مرتبہ سورۃ الملک پڑھواتے ہیں،اس کو میت کی جانب سے صدقہ و خیرات کا نام دیا جاتا ہے ، اس رسم کو ثواب اور متبرک سمجھ کر کرنا جہالت ہے۔ سورۃ الملک پڑھنا بذات خود ثواب کا کام ہے، لیکن کسی خاص دن میں اس کا اس طرح اہتمام ثابت نہیں ہے۔(۳۱)

رجب کے کونڈے:
ماہ رجب میں ایک رسم ’’کونڈوں‘‘ کے نام سے مشہور ہے ، جو ۲۲رجب کو میٹھی چیز تقسیم کرکے منائی جاتی ہے اورمختلف گھڑی ہوئی داستانوں اورواقعات کو بنیاد بنا کر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی پیدائش کا دِن ہے، لہذا اُن کی پیدائش کی خوشی میں یہ جشن کیا جاتا ہے ،اور اِسے“ رجب کے کونڈے، یا امام جعفر کے کونڈے ‘‘ کا نام دِیا جاتا ہے۔

کونڈوں کی ایجاد کب ہوئی ؟
کونڈوں کی رسم سب سے پہلے ہندوستان میں۱۹۰۶ ء میں شروع ہوئی ۔
پیر جماعت علی شاہ کے ایک مریدخاص مصطفیٰ علی خاں نے اپنے کتابچے “ جواہر المناقب ”میں حامد حسن قادری کا بیان درج کیا ہے ’’۲۲رجب کی پوریوں والی کہانی اور نیاز سب سے پہلے ۱۹۰۶ء میں رامپور میں أمیر مینائی لکھنوئی کے خاندان میں نکلی ۔
مولوی مظہر علی سندیلوی اپنے؁ ۱۹۱۱ء کے ایک روزنامچے میں کونڈوں کی رسم کی ابتداء پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے :
’’ آج(میں ۱۹۱۱) مجھے ایک نئی رسم دریافت ہوئی ، جو پہلے میری سماعت میں نہیں آئی تھی ، اور وہ رسم یہ ہے کہ۲۱ رجب کو بوقتِ شام میدہ شکر ،گھی اور دودھ ملا کر ٹکیاں پکائی جاتی ہیں اور اُن پر اِمام جعفر صادق کا فاتحہ ہوتا ہےاور ۲۲رجب کی صبح کو عزیز و أقارب کوگھر بلا کر کھلائی جاتی ہیں۔ ٹکیاں باہر نہیں نکلنے پاتیں۔جہاں تک مُجھے عِلم ہوا ہے اِسکا رواج ہر مقام پر ہوتا ہے ، میری یاد میں کبھی اِسکا تذکرہ سماعت میں نہیں آیا ،اور اب یہ فاتحہ ہر ایک گھر میں بڑی عقیدت مندی سے ہوا کرتا ہے اور یہ رسم برابربڑھتی جا رہی ہے‘‘(۳۲)
اس تفصیل سے معلوم ہو کہ کونڈوں کہ یہ رسم نو ایجاد ہے ، جس کا حضرت جعفر صادق ؒسے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

کونڈوں کی مروج رسم دشمنانِ صحابہ رضوان اللہ تعالی اجمعین کی ایجاد ہے: ۔
۲۲ رجب ۶۰ ھ کو صحابی رسول ، کاتب وحی حضرت امیرمعاویہ نے اسلام اور مسلمانوں کی پچاس سال تک خدمت کرنے کے بعد وفات پائی تھی ، تو دشمنانِ صحابہ رضوان اللہ تعالی اجمعین نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی میں ۲۲رجب کو یہ رسم شروع کی ، لیکن جس وقت یہ رسم ایجاد ہوئی تو اس وقت شیعہ مسلمانوں سے مغلوب وخائف تھے، اس لیے یہ اہتمام کیا گیا کہ شیرینی اعلانیہ تقسیم نہ کی جائے اور راز پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کوایک روایت گھڑ کرحضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا،حالانکہ ٢٢رجب کو حضرت جعفرصادق سے کوئی تعلق نہیں ہے ، نہ اِس میں اُن کی ولادت ہوئی نہ وفات ۔حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی ولادت ٨رمضان ٨٠ھ یا ٨٣ ھ کی ہے اوروفات شوال ١٤٨ھ میں ہوئی ۔(۳۳)

کونڈوں کی رسم کی شرعی حیثیت :
مفتی اعظم ہند حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :یہ کونڈوں کی رسم ایک ایسی ایجاد ہے، جس کے لیے شریعت مقدسہ میں کوئی دلیل نہیں ہے، لہذا اسے ترک کردینا ضروری ہے۔(۳۴)

حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کونڈوں کی مروجہ رسم مذہب اہلِ سنت والجماعت میں محض بے اصل ، خلافِ شرع اوربدعتِ ممنوعہ ہے۔(۳۵)

حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں : آج کل معاشرے میں فرض وواجب کے درجہ میں جو چیز پھیل گئی ہے وہ کونڈے ہیں ،اگر آج کسی نے کونڈے نہیں کیے تو وہ (گویا کہ )مسلمان ہی نہیں ،نماز پڑھے یا نہ پڑھے ، روزے رکھے یا نہ رکھے ، گناہوں سے بچے یا نہ بچے ، لیکن کونڈے ضرورکرے۔ اوراگر کوئی شخص نہ کرے یا کرنے والوں کو منع کرے تو اُس پر لعنت اورملامت کی جاتی ہے ، خدا جانے یہ کونڈے کہاں سے نکل آئے؟ نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہیں ، نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے، نہ تابعین رحہم اللہ تعالیٰ سے، نہ تبع تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ سے اور نہ بزرگانِ دین سے ، کہیں سے اِس کی کوئی اصل ثابت نہیں اوراِس کو اتنا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ گھر میں دین کا کوئی دوسرا کام ہو یا نہ ہو لیکن کونڈے ضرور ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں ذرامزہ اور لذت آتی ہے، اورہماری قوم لذت اورمزہ کی خوگر ہے ، کوئی میلہ ٹھیلہ ہونا چاہیے اورکوئی حظِّ نفس کا سامان ہونا چاہیے ۔اورہوتا یہ ہے کہ جناب ! پوریاں پک رہی ہیں، حلوہ پک رہا ہے اوراِدھر سے اُدھر جارہی ہیں ،اوراُدھر سے اِدھر آرہی ہیں اور ایک میلہ لگا ہوا ہے ، تو چونکہ یہ بڑے مزے کاکام ہے ، اس واسطے شیطان نے اس میں مشغول کردیا کہ نماز پڑھو یا نہ پڑھو ، وہ کوئی ضروری نہیں ، مگر یہ کام ضرور ہونا چاہیے ۔ بھائی !ان چیزوں نے ہماری اُمت کو خرافات میں مبتلا کردیا ہے۔
"حقیقت روایات میں کھو گئی یہ اُمت خرافات میں کھو گئی"
اس قسم کی چیزوں کو لازمی سمجھ لیا گیا اورحقیقی چیزیں پس ِپشت ڈال دی گئیں ، اس کے بارے میں رفتہ فتہ اپنے بھائیوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ بہت سے لوگ صرف ناواقفیت کی وجہ سے کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں کوئی عناد نہیں ہوتا، لیکن دین سے واقف نہیں ،ان بیچاروں کو اِس کے بارے میں پتہ نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح عیدا لضحیٰ کے موقع پر قربانی ہوتی ہے اورگوشت اِدھر سے اُدھر جاتا ہے ،یہ بھی قربانی کی طرح کوئی ضروری چیز ہوگی ، اور قرآن وحدیث سے اِس کا بھی کوئی ثبوت ہوگا، اس لیے ایسے لوگوں کو محبت ، پیار اورشفقت سے سمجھایا جائے اور ایسی تقریبات میں خود شریک ہونے سے پرہیز کیا جائے''۔
(اصلاحی خطبات ج:١,ص:۵۴،۵۵،ط:میمن اسلامک پبلشرز )

اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ کونڈے ہندوستانی روافض کی ایجاد ہے ،لہذا اس رسم میں ہرگز شرکت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ حتی الوسع اسے مٹانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ستائیس رجب کا ہزاری روزہ:
بعض لوگ ستائیس رجب کے روزے کا بڑا اہتمام کرتے ہیں اور اسے بڑی فضیلت والا خیال کرتے ہیں حتی کہ اس بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس ایک دن کے روزے کا اجر ایک ہزار روزے کے اجر کے برابر ہے، جس کی بنا پر اسے “ہزاری روزے ”کے نام سے جاناجاتا ہے۔
اس بارے میں واضح رہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور پہلے تفصیلاً بیان کیا جاچکا ہے کہ رجب کے روزوں سے متعلق جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں ، وہ تمام روایات ضعیف یا سخت ضعیف یا منکر اور موضوع (من گھڑت)ہیں۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:اس کو عام لوگ “مریم روزہ کا چاند‘‘کہتے ہیں،اور اس کی ستائیس تاریخ میں روزہ رکھنے کو اچھا سمجھتے ہیں کہ ایک روزہ میں ہزار روزوں کا ثواب ملتا ہے، شرع میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں ، اگر نفل روزہ رکھنے کو دل چاہے، اختیار ہے، خدا تعالیٰ جتنا چاہیں ثواب دیدیں، اپنی طرف سے ہزار یا لاکھ مقرر نہ سمجھے ، بعضی جگہ اس مہینے میں “تبارک کی روٹیاں”پکتی ہیں، یہ بھی گھڑی ہوئی بات ہے، شرع میں اس کا کوئی حکم نہیں ، نہ اس پر کوئی ثواب کا وعدہ ہے، اس واسطے ایسے کام کو دین کی بات سمجھنا گناہ ہے۔”
(بہشتی زیورص:۲۹۶،ط:توصیف پبلی کیشنز، کراچی) (۳۶)

شب معراج:
رجب کی ۲۷ تاریخ کو شب معراج منائی جاتی ہے ۔ دن کوروزہ اور رات کو قیام کیا جاتا ہے ۔ محافل نعت اور مختلف دینی مجالس منعقد کی جاتی ہیں اورمساجد میں چراغاں وغیرہ کیا جاتاہے اوراِن تمام اُمور کو اِس بنیاد پر سرانجام دیا جاتا ہے کہ ستائیس رجب کی رات جناب رسول اللہ ﷺ کو سفرِ معراج کروایا گیا۔

اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ قابل ذکر ہے کہ شبِ معراج کی کسی قسم کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے:
جناب رسول اللہ ﷺ کا’’ سفرِمعراج اور اسراء‘‘ بالکل برحق ہے ، اس کے انکار کی قطعاً گنجائش نہیں اور معراج کی رات آپ ﷺ کو آسمانوں پر بُلاکر بہت بڑا شرف بخشا گیا ، لیکن امت کے لیے اس بارے میں کسی قسم کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے۔شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ شبِ قدر اور شبِ معراج ان دونوں راتوں میں سے کون سی رات افضل ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی اکرم ﷺ کے حق میں’’ لیلة المعراج‘‘ افضل ہے اور امت کے حق میں’’ لیلة القدر‘‘ ، اس لیے کہ اِس رات میں جن انعامات سے نبی اکرم ﷺ کو مختص کیا گیا ،وہ ان (انعامات ) سے کہیں بڑھ کرہیں، جو (انعامات آپ ﷺ کو) شبِ قدر میں نصیب ہوئے،اور امت کو جو حصہ (انعامات)شبِ قدر میں نصیب ہوا ،وہ اس سے کامل ہے جو(امت کو شبِ معراج میں ) حاصل ہوا ، اگرچہ امتیوں کے لیے شبِ معراج میں بھی بہت بڑا اعزاز ہے؛ لیکن اصل فضل اور شرف اُس ہستی کے لیے ہے جِس کو معراج کروائی گئی،ﷺ(۳۷)

شبِ معراج کی تعیین میں اختلاف ہے:
آپ ﷺ کو سفرِ معراج کب کروایا گیا؟ اِس بارے میں تاریخ،مہینے؛بلکہ سال میں بھی بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، اس بارے میں (یعنی جِس سال میں معراج کروائی گئی ) عموماً دس اقوال ملتے ہیں اور اِن اقوال میں سے سب سے زیادہ مشہور قول جس کو ترجیح دی گئی ہے وہ ہجرت سے ایک سال قبل کا ہے۔(۳۸)
اسی طرح مہینے کی تعیین میں بھی اختلاف ہے کہ واقعہِ معراج کس مہینے میں پیش آیا، ربیع الاول ، ربیع الاخر، رجب، رمضان یا شوال ، یہ پانچ اقوال ملتے ہیں ۔(۳۹)
اسی طرح شبِ معراج کس تاریخ اور کس رات میں ہوئی؟ اس میں بھی اختلاف ہے۔(۴۰)
جب شب معراج کےسال ، مہینے اور دن میں اختلاف ہے تو اس کی تاریخ کا تعین کیسے کیا جاسکتا ہے؟

سوال یہ ہوتا ہے کہ تعیین شبِ معراج میں اتنا اختلاف کیوں ؟
معراج کے قصے کی تفصیل تقریباً ینتالیس صحابہ کرام سے منقول ہے(۴۱)، لیکن جس رات میں یہ واقعہ پیش آیا، اس رات کی حتمی تاریخ کسی نے بھی نقل نہیں کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس شب میں خرافات و بدعات کی بھر مار کا شدید خطرہ تھا، حضور ﷺ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سدّ ِباب کی غرض سے اس کو مبہم رکھنا ہی ضروری سمجھا “(۴۲)

حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ شبِ معراج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :“ستائیس رجب کی شب کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا ہے کہ یہ شب ِ معراج ہے ، اور اس شب کو بھی اسی طرح گذارنا چاہیے، جس طرح شب قدر گذاری جاتی ہے اور جو فضیلت شبِ قدر کی ہے ، کم وبیش شب معراج کی بھی وہی فضیلت سمجھی جاتی ہے؛ بلکہ میں نے تو ایک جگہ یہ لکھا ہوا دیکھا کہ “شبِ معراج کی فضیلت شبِ قدر سے بھی زیادہ ہے” اور پھر اس رات میں لوگوں نے نمازوں کے بھی خاص خاص طریقے مشہور کر دئیے کہ اس رات میں اتنی رکعات پڑھی جائیں اور ہر رکعت میں فلاں فلاں سورتیں پڑھی جائیں ، خدا جانے کیا کیا تفصیلات اس نماز کے بارے میں مشہور ہو گئیں ، خوب سمجھ لیجئے:یہ سب بے اصل باتیں ہیں ،شریعت میں ان کی کوئی اصل اور کوئی بنیاد نہیں۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ستائیس رجب کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتاکہ یہ وہی رات ہے، جس میں نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے ؛ کیونکہ اس باب میں مختلف روایتیں ہیں ، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب کا ذکر ہے اور بعض روایتوں میں کوئی اور مہینہ بیان کیا گیا ہے، اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتاکہ کون سی رات صحیح معنوں میں معراج کی رات تھی، جس میں آنحضرت ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے اس سے آپ خوداندازہ کر لیں کہ اگر شب معراج بھی شبِ قدر کی طرح کوئی مخصوص عبادت کی رات ہوتی،اور اس کے بارے میں کوئی خاص احکام ہوتے جس طرح شبِ قدر کے بارے میں ہیں، تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا؛لیکن چونکہ شب معراج کی تاریخ محفوظ نہیں تو اب یقینی طور سے ستائیس رجب کو شبِ معراج قرار دینا درست نہیں اور اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ ﷺ ستائیس رجب کو ہی معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے ، جس میں یہ عظیم الشان واقعہ پیش آیااور جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یہ مقام ِ قرب عطا فرمایا اور اپنی بارگاہ میں حاضری کا شرف بخشا، اور امت کے لیے نمازوں کا تحفہ بھیجا، تو بے شک وہی ایک رات بڑی فضیلت والی تھی ، کسی مسلمان کو اس کی فضیلت میں کیا شبہ ہو سکتا ہے ؟ لیکن یہ فضیلت ہر سال آنے والی ستائیس رجب کی شب کو حاصل نہیں ۔
پھردوسری بات یہ ہے کہ (بعض روایات کے مطابق)یہ واقعہ معراج سن ۵، نبوی میں پیش آیا ، یعنی حضور ﷺ کے نبی بننے کے پانچویں سال یہ شبِ معراج پیش آئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد ۱۸،سال تک آپ ﷺ نے شبِ معراج کے بارے میں کوئی خاص حکم دیا ہو ، یا اس کو منانے کا حکم دیاہو ، یااس کو منانے کا اہتمام فرمایا ہو ، یا اس کے بارے میں یہ فرمایا ہو کہ اس رات میں شبِ قدر کی طرح جاگنا زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے، نہ تو آپﷺ کا ایسا کو ئی ارشاد ثابت ہے ،اور نہ آپ کے زمانے میں اس رات میں جاگنے کا اہتمام ثابت ہے ، نہ خود آپ ﷺ جاگے اور نہ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تاکید فرمائی اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے طور پر اس کا اہتمام فرمایا۔
پھر سرکارِ دو عالم ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد تقریباً سو سال تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینا میں موجود رہے ، اس پوری صدی میں کوئی ایک واقعہ ثابت نہیں ہے، جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ۲۷،رجب کو خاص اہتمام کر کے منایا ہو، لہٰذا جو چیز حضورِ اکرم ﷺ نے نہیں کی اور جو چیز آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے نہیں کی ، اس کودین کا حصہ قرار دینا ، یا اس کو سنت قراردینا، یا اس کے ساتھ سنت جیسامعاملہ کرنا بدعت ہے، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں (العیاذ باللہ)حضور ﷺ سے زیادہ جانتا ہوں کہ کونسی رات زیادہ فضیلت والی ہے، یا کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ مجھے عبادت کا ذوق ہے، اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ عمل نہیں کیا تو میں اس کو کروں گا تو اس کے برابر کوئی احمق نہیں“حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین رحہم اللہ تعالیٰ اور تبع تابعین رحہم اللہ تعالیٰ دین کو سب سے زیادہ جاننے والے ، دین کو خوب سمجھنے والے ، اور دین پر مکمل طور پر عمل کرنے والے تھے ، اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ان سے زیادہ دین کو جانتا ہوں ، یا ان سے زیادہ دین کا ذوق رکھنے والا ہوں، یا ان سے زیادہ عبادت گذار ہوں تو حقیقت میں وہ شخص پاگل ہے، وہ دین کی فہم نہیں رکھتا؛ لہٰذا اس رات میں عبادت کے لیے خاص اہتمام کرنا بدعت ہے ، یوں تو ہر رات میں اللہ تعالیٰ جس عبادت کی توفیق دے دیں وہ بہتر ہی بہتر ہے؛لہٰذا آج کی رات بھی جاگ لیں، لیکن اس رات میں اور دوسری راتوں میں کوئی فرق اور نمایاں امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔“
(اصلاحی خطبات :ج:۱،ص:۴۸-۵۲،میمن اسلامک پبلشرز)

خلاصہ کلام
ماہ رجب کی محض اتنی ہی فضیلت ثابت ہے کہ یہ ایک حرمت والا مہینہ ہے، اس لئے اس کے احترام کا تقاضا ہے کہ اس میں خصوصی طور پر گنا ہوں سے بچنے اور عبادات بجا لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اس عظیم الشان مہینے کی برکتوں سے خوب مالا مال فرمائے، اور اس ماہ مبارک میں بدعات و خرافات سے بچائے اور اس حرمت و عظمت والے مہینے کی قدر کرنے اور اس میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

(1) تفسیر ابن کثیر: (195/7، ط: مؤسسة قرطبة)
رجب: من الترجيب، وهو التعظيم، ويجمع على أرجاب، ورِجَاب، ورَجَبات.

(2) التدوین في اخبار قزوین: (165/1، ط: دار الکتب العلمیة)
وأظهر ما قيل في اشتقاق رجب أنه من التعظيم، يقال رجبته بالكسر أي هبته وعظمته فهو مرجوب، والترجيب التعظيم سمي به لأنهم كانوا يعظمونه ولا يستحلون فيه القتال والجمع أرجاب.

(3) فضائل الأوقات للبيهقي: (83/4، ط: مكتبة المنارة)
وأخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوبأخبرنا أحمد بن عبد الجبار العطاردي حدثنا أبي حدثنا زهير عن بيانقال سمعت قيس بن أبي حازم وذكر رجبا فقال كنا نسميه [ الأصم ] فيالجاهلية من حرمته أو شدة حرمته في أنفسنا قال الشيخ رضي الله عنه إنما كانوا يسمون رجبا الأصم لأنه كان لا يسمع فيه قعقعة السلاح

(4) الهداية إلي بلوغ النهاية: (1884/3، ط: جامعة الشارقة)
قال المبرد: كانت الجاهلية تعظم البيت الحرام و {الأشهر الحرم}، كانوا يُسَمُّون رجباً: الاصم "، لأنه (لا) يسمع فيه وقع السلاح

(5) صحیح البخاري: (رقم الحدیث: 4662) صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 4406)
عن أبي بكرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السموات والأرض السنة اثنا عشر شهرا منها أربعة حرم ثلاثة متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان

(6) لسان العرب لابن منظور: (411/1، ط: دار صادر)
وإنما قيل رجب مضر إضافة إليهم لأنهم كانوا أشد تعظيما له من غيرهم فكأنهم اختصوا به

(7) صحیح البخاري: (رقم الحدیث: 4662) صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 4406)

(8) معارف القرآن، از مفتي شفیع عثمانيؒ: (372/4، ط: ادارۃ المعارف)

(9) تخريج الحديث:
أخرجه البزار في مسنده: (رقم الحدیث: 6496، 117/13، ط: مكتبة العلوم و الحكم، المدينة المنورة) و ابن أحمد في "زوائد المسند: (رقم الحدیث: 2346، 180/4) و الطبراني في "معجمه الأوسط": (رقم الحدیث: 3939، 189/4) و البيهقي في "شعب الإيمان" : (رقم الحدیث: 3534، 348/5) و في "فضائل الأقات": (ص: 98، رقم الحدیث: 14) و أبو نعيم في "حلية الأولیاء": (269/6، ط: السعادة)
كلهم من طريق زائدة بن أبي الرقاد، عن زياد النميري، عن أنس.

(10) مجمع الزوائد للھیثمي: (375/2، ط: دار الفکر)
وعن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا دخل رجب قال : اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان وكان إذا كان ليلة الجمعة قال : " هذه ليلة غراء ويوم أزهر" رواه البزار وفيه زائدة بن أبي الرقاد قال البخاري : منكر الحديث وجهله جماعة۔

جمع الزوائد للھیثمي: (340/3، ط: دار الفکر)
عن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخل رجب قال:اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان رواه البزار والطبراني في الأوسط وفيه زائدة بن أبي الرقاد وفيه كلام وقد وثق۔

تبيين العجب بما ورد في فضل رجب للحافظ ابن حجر العسقلانی: (ص: 38، ط: مؤسسة قرطبة)
قال أبو بكر البزار في مسنده، حدثنا أحمد بن مالك القشيري، أنبأنا زائدة بن أبي الرقاد عن زياد النميري، عن أنس، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل رجب قال: " اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان ".
أخبرناه أبو الحسن بن أبي المجد، أخبرنا سليمان بن حمزة، وعيسى بن معالي. إجازة، قالا: أنبأنا جعفر بن علي الهمداني، أنبأنا الحافظ أبو طاهر السلفي، حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن عبد الواحد، حدثنا أبو القاسم بن بشران، حدثنا أبو بكر: محمد بن إسماعيل الوراق، حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز، هو البغوي، حدثنا عبد الله بن عمر القواريري، حدثنا زائدة بن أبي الرقاد، عن زياد النميري عن أنس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل رجب قال: " اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان ".
ورواه الطبراني في الأوسط، ومن حديث زائدة. وقال: لا يروى عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا بهذا الإسناد. وتفرد به زائدة.
ورواه البيهقي في فضائل الأوقات عن القواريري، وعن زائدة. قال: تفرد به زائدة، عن زياد، وهو حديث ليس بالقوي.
ورواه يوسف القاضي في كتاب الصيام، عن محمد بن أبي بكر المقدمي عن زائدة به.
قلت:
وزائدة بن أبي الرقاد، روى عنه جماعة، وقال فيه أبو حاتم يحدث عن زياد النميري، عن أنس أحاديث مرفوعة، منكرة. فلا يدرى منه، أو من زياد، ولا أعلم روى عن غير زياد، فكنا نعتبر بحديثه. وقال البخاري: منكر الحديث. وقال النسائي: بعد أن أخرج له حديثا في السنن: لا أدري من هو. وقال في الضعفاء: منكر الحديث (و) في الكني: ليس بثقة. وقال ابن حبان لا يحتج بخبره.

شعب الإيمان للبيهقي: (34/5، ط: مکتبۃ الرشد)
تفرد به زياد النميري، وعنه زائدة بن أبي الرقاد "، قال البخاري: زائدة بن أبي الرقاد، عن زياد النميري منكر الحديث.

(11) فيض القدير للمناوي: (18/4، ط: دار المعرفة)
تنبيه: قال في كتاب الصراط المستقيم: لم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم في فضل رجب إلا خبر: "كان إذا دخل رجب قال: اللهم بارك لنا في رجب"، ولم يثبت غيره

(12) إتحاف أهل الإسلام بخصوصيات الصيام لابن حجر الهيتمي: (ص: 109، ط: مکتبة طیبة)
ويسن أن يقول في رجب: "اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان".

(13) لطائف المعارف للحافظ ابن رجب: (ص: 234، ط: دار ابن کثیر، بیروت)
وروي عن أبي إسماعيل الأنصاري أنه قال: لم يصح في فضل رجب غير هذا الحديث، وفي قوله: نظر، فإن هذا الإسناد فيه ضعف، وفي هذا الحديث دليل على استحباب الدعاء بالبقاء إلى الأزمان الفاضلة لإدراك الأعمال الصالحة فيها.

(14) تذكرة الموضوعات لمحمد طاہرالفتني: (ص: 117، ط: ادارۃ الطباعة المنيرية)
نعم روي بإسناد ضعيف «أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل رجب قال: اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان» ويجوز العمل في الفضائل بالضعيف.

الفتح الرباني للساعاتي: (231/9، ط: دار إحياء التراث العربي)
أورده الهيثمى وعزاه للبزار والطبرانى فى الأوسط عن أنس مرفوعا بلفظ "كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا دخل رجب قال اللهم بارك لنا فى رجب وشعبان وبلغنا رمضان، قال الهيثمى وفيه زائدة بن أبى الرقاد وفيه كلام وقد وثق (قلت) وفى حديث الباب زياد النميرى أيضا ضعيف، وأورده الحافظ السيوطى فى الجامع الصغير وعزاه للبيهقى فى شعب الأيمان وابن عساكر، وأشار الى ضعفه، وله طرق أخرى يقوى بعضها بعضا. والله أعلم.

الموسوعة الفقھیة الکویتیة: (161/32، ط: دار السلاسل)
قال العلماء: يجوز العمل بالحديث الضعيف بشروط، منها:
أ - أن لا يكون شديد الضعف، فإذا كان شديد الضعف ككون الراوي كذابا، أو فاحش الغلط، فلا يجوز العمل به.
ب - أن لا يتعلق بصفات الله تعالى ولا بأمر من أمور العقيدة، ولا بحكم من أحكام الشريعة من الحلال والحرام ونحوها.
ج - أن يندرج تحت أصل عام من أصول الشريعة.
د - أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته، بل يعتقد الاحتياط

(15) لطائف المعارف للحافظ ابن رجب: (ص280، ط: دار ابن کثیر، بیروت)
قال معلى بن الفضل: كانوا يدعون الله تعالى ستة أشهر أن يبلغهم رمضان يدعونه ستة أشهر أن يتقبل منهم وقال يحيى بن أبي كثير كان من دعائهم: اللهم سلمني إلى رمضان وسلم لي رمضان وتسلمه مني متقبلا.

(16) سنن ابي داود: (رقم الحدیث: 2428)
عن مجيبة الباهلية عن أبيها أو عمها : أنه أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم انطلق فأتاه بعد سنة وقد تغيرت حاله وهيئته فقال يارسول الله أما تعرفني ؟ قال " ومن أنت ؟ " قال أنا الباهلي الذي جئتك عام الأول قال " فما غيرك وقد كنت حسن الهيئة ؟ " قال ما أكلت طعاما منذ فارقتك إلا بليل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم " لم عذبت نفسك ؟ " ثم قال " صم شهر الصبر ويوما من كل شهر " قال زدني فإن بي قوة قال " صم يومين " قال زدني قال " صم ثلاثة أيام " قال زدني قال " صم من الحرم واترك صم من الحرم واترك صم من الحرم واترك " وقال بأصابعه الثلاثة فضمها ثم أرسلها .

(17) عون المعبود: (58/8، ط: دار الکتب العلمیة)
وقال بأصابعه الثلاثة ):أي صم منها ما شئت , وأشار بالأصابع الثلاثة إلى أنه لا يزيد على الثلاث المتواليات وبعد الثلاث يترك يوما أو يومين , والأقرب أن الإشارة لإفادة أنه يصوم ثلاثا ويترك ثلاثا والله أعلم قاله السندي.

(18) الموسوعة الفقهية الكويتية: (95/28، ط: وزارة الأوقاف و الشئون الإسلامية)
ذهب جمهور الفقهاء - الحنفية والمالكية والشافعية - إلى استحباب صوم الأشهر الحرم.
وصرح المالكية والشافعية بأن أفضل الأشهر الحرم : المحرم ، ثم رجب ، ثم باقيها : ذو القعدة وذو الحجة . والأصل في ذلك قول النبي صلى الله عليه وسلم : أفضل الصلاة بعد الصلاة المكتوبة الصلاة في جوف الليل ، وأفضل الصيام بعد شهر رمضان صيام شهر الله المحرم.
ومذهب الحنفية : أنه من المستحب أن يصوم الخميس والجمعة والسبت من كل شهر من الأشهر الحرم.
وذهب الحنابلة إلى أنه يسن صوم شهر المحرم فقط من الأشهر الحرم

(19) مصنف عبد الرزاق لعبد الرزاق بن همام الصنعاني: (292/4، ط: المكتب الإسلامي)
عبد الرزاق عن بن جريج عن عطاء قال كان بن عباس ينهى عن صيام رجب كله لأن لا يتخذ عيدا

(20) المعجم الأوسط للطبراني: (327/7، ط: دار الحرمین)
عن خرشة بن الحر قال رأيت عمر بن الخطاب يضرب أكف الرجال في صوم رجب حتى يضعونها في الطعام ويقول رجب وما رجب إنما رجب شهر كان يعظمه أهل الجاهلية فلما جاء الإسلام ترك

(21) امداد الفتاويٰ: (116/1، ط: مكتبة دارالعلوم)

(22) الفتاوى الهندية: (202/1، ط: دار الفكر)
المرغوبات من الصيام أنواع:أولها صوم المحرم والثاني صوم رجب والثالث صوم شعبان وصوم عاشوراء، وهو اليوم العاشر من المحرم عند عامة العلماء والصحابة رضي الله تعالى عنهم

(23) معارف القرآن: (372/4، ط: ادارة المعارف)

(24) تبيين العجب مما ورد في فضل رجب لابن حجر العسقلاني: (ص:23، ط: مؤسسة الرسالة)
لم يرد في فضل شهر رجب، ولا في صيامه، ولا فى صيام شيء معين منه ولا في ليلة مخصوصة فيه.... حديث صحيح للحجة

(25) السیل الجرار: (143/2، ط: دار الكتب العلمية)
لم يرد فی رجب علی الخصوص سنة صحيحة ولاسنة ولاضعيفة ضعفا خفيفا بل جميع ما روی فيه علی الخصوص امام موضوع مکذوب أو ضعيف شديد الضعف‘‘

(26) المنار المنیف: (ص:66، ط: دار العاصمة)
كل حديث في ذكر صوم رجب و صلاة بعض الليالي فيه كذب مفتري.

(27) شرح النووي على صحيح المسلم: (20/8، ط: مؤسسة قرطبة)
واحتج به العلماء على كراهة هذه الصلاة المبتدعة التي تسمى الرغائب قاتل الله واضعها ومخترعها فإنها بدعة منكرة من البدع التي هي ضلالة وجهالة وفيها منكرات ظاهرة وقد صنف جماعة من الأئمة مصنفات نفيسة في تقبيحها وتضليل مصليها ومبتدعها ودلائل قبحها وبطلانها وتضلل فاعلها أكثر من أن تحصر والله أعلم

(28) لطائف المعارف لابن رجب الحنبلي: (ص: 228، ط: دار ابن كثير)
فأما الصلاة فلم يصح في شهر رجب صلاة مخصوصة تختص به والأحاديث المروية في فضل صلاة الرغائب في أول ليلة جمعة من شهر رجب كذب وباطل لا تصح وهذه الصلاة بدعة عند جمهور العلماء ومن ذكر ذلك من أعيان العلماء المتأخرين من الحفاظ أبو إسماعيل الأنصاري وأبو بكر بن السمعاني وأبو الفضل بن ناصر وأبو الفرج بن الجوزي وغيرهم إنما لم يذكرها المتقدمون لأنها أحدثت بعدهم وأول ما ظهرت بعد الأربعمائة فلذلك لم يعرفها المتقدمون ولم يتكلموا فيها.

(29) رد المحتار: (26/2، ط: دار الفكر)
مطلب في صلاة الرغائب
قال في البحر: ومن هنا يعلم كراهة الاجتماع على صلاة الرغائب التي تفعل في رجب في أولى جمعة منه وأنها بدعة، وما يحتاله أهل الروم من نذرها لتخرج عن النفل والكراهة فباطل اه.
قلت: وصرح بذلك في البزازية كما سيذكره الشارح آخر الباب، وقد بسط الكلام عليها شارحا المنية، وصرحا بأن ما روي فيها باطل موضوع، وبسطا الكلام فيها خصوصا في الحلية وللعلامة نور الدين المقدسي فيها تصنيف حسن سماه ردع الراغب، عن صلاة كالرغائب، أحاط فيه بغالب كلام المتقدمين والمتأخرين من علماء المذاهب الأربعة.

(30) لطائف المعارف لابن رجب الحنبلي: (ص: 231، ط: دار ابن كثير)
وأما الزكاة فقد اعتاد أهل هذه البلاد إخراج الزكاة في شهر رجب ولا أصل لذلك في السنة ولا عرف عن أحد من السلف ولكن روي عن عثمان أنه خطب الناس على المنبر فقال: إن هذا شهر زكاتكم فمن كان عليه دين فليؤد دينه وليزك ما بقي خرجه مالك في الموطأ وقد قيل: إن ذلك الشهر الذي كانوا يخرجون فيه زكاتهم نسي ولم يعرف وقيل: بل كان شهر المحرم لأنه رأس الحول وقد ذكر الفقهاء من أصحابنا وغيرهم أن الإمام يبعث سعاته لأخذ الزكاة في المحرم وقيل بل كان شهر رمضان لفضله وفضل الصدقة فيه.
وبكل حال فإنما تجب الزكاة إذا تم الحول على النصاب فكل أحد له حول يخصه بحسب وقت ملكه للنصاب فإذا تم حوله وجب عليه إخراج زكاته في أي شهر كان.

(31) فتاويٰ رشیدية: (ص:78) فتاويٰ محمودية: (282/3، ط: ادارة الفاروق)

(32) کونڈوں کی حقیقت از مولانا محمود الحسن بدیواني: (ص: 27، ط: مكتبه اہلحديث)

(33) سات مسائل از مفتي رشید احمد لدھیانوي: (ص: 3، ط: دارالافتاء و الارشاد کراتشي)

(34) کفایت المفتي: (315/2، ط: ادارة الفاروق)

(35) فتاويٰ محمودية: (281/3، ط: ادارة الفاروق)

(36) بہشتي زیور: (ص: 296،ط: توصیف پبلشرز) کذا في فتاویٰ رحیمیة: (276/7، ط: دار الاشاعت) و كذا في فتاويٰ محمودية: (281/3، ط: ادارة الفاروق) كذا في فتاويٰ دارالعلوم دیوبند: (304/6، ط: دار الاشاعت)

(37) مجموع الفتاويٰ: (286/26، ط: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف)
وسئل:عن " ليلة القدر ". و " ليلة الإسراء بالنبي صلى الله عليه وسلم " أيهما أفضل؟
فأجاب: بأن ليلة الإسراء أفضل في حق النبي صلى الله عليه وسلم وليلة القدر أفضل بالنسبة إلى الأمة فحظ النبي صلى الله عليه وسلم الذي اختص به ليلة المعراج منها أكمل من حظه من ليالي القدر. وحظ الأمة من ليلة القدر أكمل من حظهم من ليلة المعراج. وإن كان لهم فيها أعظم حظ. لكن الفضل والشرف والرتبة العليا إنما حصلت فيها لمن أسري به صلى الله عليه وسلم

(38) فتح الباري لابن الحجر العسقلاني: (203/7، ط: دار المعرفة)
وقد اختلف في وقت المعراج فقيل كان قبل المبعث وهو شاذ إلا إن حمل على أنه وقع حينئذ في المنام كما تقدم وذهب الأكثر إلى أنه كان بعد المبعث ثم اختلفوا فقيل قبل الهجرة بسنة قاله بن سعد وغيره وبه جزم النووي وبالغ بن حزم فنقل الإجماع فيه وهو مردود فإن في ذلك اختلافا كثيرا يزيد على عشرة أقوال منها ما حكاه بن الجوزي أنه كان قبلها بثمانية أشهر وقيل بستة أشهر وحكى هذا الثاني أبو الربيع بن سالم وحكى بن حزم مقتضى الذي قبله لأنه قال كان في رجب سنة اثنتي عشرة من النبوة وقيل بأحد عشر شهرا جزم به إبراهيم الحربي حيث قال كان في ربيع الآخر قبل الهجرة بسنة ورجحه بن المنير في شرح السيرة لابن عبد البر وقيل قبل الهجرة بسنة وشهرين حكاه بن عبد البر وقيل قبلها بسنة وثلاثة أشهر حكاه بن فارس وقيل بسنة وخمسة أشهر قاله السدي وأخرجه من طريقه الطبري والبيهقي فعلى هذا كان في شوال أو في رمضان على إلغاء الكسرين منه ومن ربيع الأول وبه جزم الواقدي وعلى ظاهره ينطبق ما ذكره بن قتيبة وحكاه بن عبد البر أنه كان قبلها بثمانية عشر شهرا وعند بن سعد عن بن أبي سبرة أنه كان في رمضان قبل الهجرة بثمانية عشر شهرا وقيل كان في رجب حكاه بن عبد البر وجزم به النووي في الروضة وقيل قبل الهجرة بثلاث سنين حكاه بن الأثير وحكى عياض وتبعه القرطبي والنووي عن الزهري أنه كان قبل الهجرة بخمس سنين ورجحه عياض ومن تبعه

(39) شرح الزرقاني علي المواهب اللدنية: (80/2، ط: دار الكتب العلمية)
وقيل: الهجرة بسنة وخمسة أشهر، قاله السيدي وأخرجه من طريقه الطبري والبيهقي، فعلى هذا كان في شوال.
وقيل: كان في رجب. حكاه ابن عبد البر، وقبله ابن قتيبة، وبه جزم النووي في الروضة.
وقيل: كان قبل الهجرة بسنة وثلاثة أشهر، فعلى هذا يكون في ذي الحجة، وبه جزم ابن فارس.
وقيل: قبل الهجرة بثلاث سنين، ذكر ابن الأثير.وقال الحربي: إنه كان في سابع عشري ربيع الآخر، وكذا قال النووي في فتاويه، لكن قال في شرح مسلم: في ربيع الأول.
وقيل: كان ليلة السابع والعشرين من رجب، واختاره الحافظ عبد الغني بن سرور المقدسي

(40) کذا في ہادي عالم از سید فضل الرحمن: (317/1، ط: زوار اکیدمي)

(41) قصص القرآن از مولانا حفیظ الرحمن سیوہاروي: (521/4، ط: دار الاشاعت)

(42) سات مسائل از مفتي رشید احمد لدھیانوي: (ص: 14، ط: دار الافتاء و الارشاد کراتشی)

Print Views: 4047

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2023.