عنوان: ٹی وی یا موبائل پر نامحرم عورتوں کو دیکھنا(106664-No)

سوال: مفتی صاحب ! آج کل ٹی وی اور موبائل پر نامحرم عورتیں کثرت سے نظر آتی ہیں، اور ان سے خبرنامے اور اشتہارات بھی خالی نہیں ہوتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ٹی وی اور موبائل پر نامحرم عورتوں کو دیکھنا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ٹی وی اور موبائل وغیرہ پر بھی نامحرم عورتوں کو دیکھنا ناجائز ہے، خواہ وہ خبرنامے میں نظر آئیں یا اشتہارات وغیرہ میں۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لما فی التنزیل العزیز:

"قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (٣۰) وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ.. الآیۃ".

(سورۃ النور : ٣۰ ، ٣١)

وفی الشامیۃ:

"وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین الرجال لا لأنہ عورۃ؛ بل لخوف الفتنۃ".

(باب شروط الصلاۃ / مطلب في ستر العورۃ ۲؍۷۹)

وفی حجۃ اللّٰہ البالغۃ:

قال الإمام الشاہ ولي اللّٰہ: اعلم أنہ لما کان الرجال یہیّجہم النظر إلی النساء علی عشقہن والتوجہ بہن، ویفعل بالنساء مثل ذٰلک، وکان کثیرًا ما یکون ذٰلک سببًا؛ لأن یبتغي قضاء الشہوۃ منہن علی غیر السنۃ الراشدۃ، کاتباع من ہي في عصمۃ غیرہ، أو بلا نکاح، أو غیر اعتبار کفاء ۃ، والذي شوہد من ہٰذا الباب یغني عما سطر في الدفاتر، اقتضت الحکمۃ أن یسد ہٰذا الباب".

(۲؍۳۲۸ ذکر العورات)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 271
T.V ya mobile par na mehram orton ko dekhna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.