عنوان: کیا صدقہ فطر امام کا حق ہے؟ (107414-No)

سوال: السلام علیکم، ہمارے امام صاحب نے فرمایا کہ جس نے بھی مولوی کے بغیر صدقہ فطر کسی اور کو دیا، اس کے روزہ اور عبادت قبول ہونے میں شک ہے، آیا صدقہ فطر صرف مولوی صاحب کو دینا چاہیے یا غریب لوگوں کو بھی دے سکتے ہیں؟ جزاک اللہ خیرا

جواب: صدقہ فطر کے مصارِف وہی ہیں، جو زکوٰۃ کے ہیں، یعنی جن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں، اُنہیں صدقہ فطر دے سکتے ہیں اور جنہیں زکوٰۃ نہیں دے سکتے، اُنہیں صدقہ فطر بھی نہیں دیا جا سکتا۔

امام صاحب کا یہ کہنا کہ یہ صرف امام کا حق ہے، درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

كذا في الدر:

ﻗﻮﻟﻪ: ﺃﻱ ﻣﺼﺮﻑ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻭاﻟﻌﺸﺮ) ﻭﻫﻮ ﻣﺼﺮﻑ ﺃﻳﻀﺎ ﻟﺻﺪﻗﺔ اﻟﻔﻄﺮ ﻭاﻟﻜﻔﺎﺭﺓ ﻭاﻟﻨﺬﺭ ﻭﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ اﻟﺼﺪﻗﺎﺕ اﻟﻮاﺟﺒﺔ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ اﻟﻘﻬﺴﺘﺎﻧﻲ

(ج2، ص339، ط: دارالفكر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 69

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sadqa-tul-Fitr (Eid Charity)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com