عنوان: کیا بیوی کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے اس سے اجازت لینا ضروری ہے؟(107519-No)

سوال: میں ہر سال اپنی بیوی کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرتا ہوں، یہ بتادیں کہ کیا بیوی کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے اس سے صراحۃََ اجازت لینا ضروری ہے؟

جواب: واضح رہے کہ چونکہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر خاوند بیوی کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرتا ہے اور عموما بیوی کی طرف سے اس کی اجازت ہوتی ہے، لہذا بیوی کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے خاوند کا اس سے صراحتاً اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

ولو أدى عنهما بلا إذن أجزأ استحسانا للإذن عادة أي لو في عياله وإلا فلا۔۔۔الخ

(باب صدقة الفطر، ج: 2، ص: 363، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 70

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sadqa-tul-Fitr (Eid Charity)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com