سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! کیا "انشا حسان" نام رکھنا مناسب ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔
جواب: "انشا" ایک مبہم لفظ ہے، اس کا معنی معلوم نہیں ہے ، اس لیے انشا حسن (Inshaa Hassaan)نام رکھنا مناسب نہیں ہے۔
نیز واضح رہے کہ بچوں کے نام انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء و صلحاء کے بابرکت ناموں میں سے کسی نام پر رکھنے چاہیے، تاکہ ان بابرکت ہستیوں کا اثر اس بچے پر بھی ظاہر ہو، کیونکہ احادیث مبارکہ کے مطابق انسان کی شخصیت پر نام کا بڑا اثر ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داود: (باب تغيير الأسماء، رقم الحدیث: 4909، 428/5، ط: دار الیسر)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا، وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حدثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ».
مسند البزار: (رقم الحدیث: 8540، 176/15، ط: مكتبة العلوم و الحكم)
حَدَّثنا الحارث بن الخضر، قَال: حَدَّثنا سَعْد بن سَعِيد، عَن أخيه عَبد اللَّهِ بْنِ سَعِيد، عَن أَبِيه، عَن أبي هُرَيرة؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قال: "إن من حق الولد على الوالد أن يحسن اسمه ويحسن أدبه".
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی