سوال:
نماز کا وقت شروع ہونے پر اگر فوراً نماز نہ پڑھی جائے اور کچھ وقت گزرنے کے بعد نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے کوئی ایسی صورت حال پیش آ جائے، مثلاً بچے کی ولادت ہو جائے یا عورت کو حیض آجائے، تو کیا بعد میں اس نماز کی قضا کرنی ہوگی یا نہیں؟جزاک اللہ خیر
جواب: نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے اگر کسی عورت کو حیض آجائے اور اس نے نماز نہیں پڑھی ہو، تو یہ نماز معاف ہوگی، اور پاک ہونے کے بعد اس نماز کی قضاء لازم نہیں ہوگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المبسوط للسرخسی: (14/2، ط: دار المعرفۃ)
وإذا أدركها الحيض في شيء من الوقت وقد افتتحت الصلاة أو لم تفتتحها سقطت تلك الصلاة عنها أما إذا حاضت بعد دخول الوقت فليس عليها قضاء تلك الصلاة إذا طهرت عندنا
رد المحتار: (229/1، ط: دار الفکر)
أنه لو مات أو أغمي عليه إغماء طويلا، أو جن جنونا مطبقا أو حاضت المرأة في آخر الوقت يسقط كل الصلاة، فإذا سافر يسقط بعض الصلاة اه فافهم
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی