عنوان: عرشمان نام رکھنے کا حکم(108575-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا لڑکے کا نام "عرشمان" رکھنا صحیح ہے؟

جواب: عرشمان نام دو لفظوں کا مجموعہ ہے، عرش عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی شاہی تخت، چھت، رئیس، سردار، ایسا مکان جس میں سایہ لیا جائے وغیرہ کے آتے ہیں۔

مان کے بھی مختلف معانی ہیں، جیسے: گھمنڈ، غرور، تکبر، آؤ بھگت، منزلت وغیرہ۔

لہذا عرشمان نام رکھنا اچھا نہیں ہے، کیونکہ عرشمان نام میں "غرور و تکبر کی بلندیوں کو پہنچا ہوا" کے معنی کا احتمال بھی موجود ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ اس نام کے بجائے کسی نبی، صحابی اور ولی کے نام پر بچے کا نام رکھا جائے، تاکہ اس برگزیدہ ہستی کی نسبت اور ان کے نام کی برکت حاصل ہوجائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

الصحاح تاج اللغۃ: (المادۃ:عرش،1009/3،ط:دار العلم الملایین)
اﻟﻌﺮﺵ: ﺳﺮﻳﺮ اﻟﻤﻠﻚ. ﻭﻋﺮﺵ اﻟﺒﻴﺖ: ﺳﻘﻔﻪ۔ ﻭﻗﻮﻟﻬﻢ ﺛﻞ ﻋﺮﺷﻪ، ﺃﻱ ﻭﻫﻰ ﺃﻣﺮﻩ ﻭﺫﻫﺐ ﻋﺰﻩ. ﻗﺎﻝ ﺯﻫﻴﺮ: ﺗﺪاﺭﻛﺘﻤﺎ ﻋﺒﺴﺎ ﻭﻗﺪ ﺛﻞ ﻋﺮﺷﻬﺎ ﻭﺫﺑﻴﺎﻥ ﺇﺫ ﺯﻟﺖ ﺑﺄﻗﺪاﻣﻬﺎ اﻟﻨﻌﻞ  ﻭاﻟﻌﺮﺵ ﻭاﻟﻌﺮﻳﺶ: ﻣﺎ ﻳﺴﺘﻈﻞ ﺑﻪ. ﻭﻋﺮﺵ اﻟﻘﺪﻡ: ﻣﺎ ﻧﺘﺄ ﻓﻲ ﻇﻬﺮﻫﺎ ﻭﻓﻴﻪ اﻻﺻﺎﺑﻊ. ﻭﻋﺮﺵ اﻟﺴﻤﺎﻙ: ﺃﺭﺑﻌﺔ ﻛﻮاﻛﺐ ﺻﻐﺎﺭ ﺃﺳﻔﻞ ﻣﻦ اﻟﻌﻮاء، ﻳﻘﺎﻝ ﺇﻧﻬﺎ ﻋﺠﺰ اﻷﺳﺪ۔

فیروز اللغات: (مادہ: مان،ص:1187،ط:دار الفکر)
مان : گھمنڈ، غرور، تکبر، نخوت، کبر  2) عزت، قدر، منزلت 3) خاطر تواضع، آؤ بھگت

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com