عنوان: مقتدی امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں شریک ہو کر تشہد پڑھے گا یا نہیں؟(108750-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر جماعت میں آخر میں آکر شریک ہوئے ہوں، اور معلوم نہ ہو کہ امام سلام پھیرنے کے قریب ہے یا نہیں، تو ایسی صورت میں تشہد پڑھیں یا نہیں؟ اور اگر پڑھ رہے ہوں، اور امام سلام پھیر دے، تو مکمل کرکے بقایا نماز کے لیے کھڑے ہوں یا امام کے سلام پھیرتے ہی کھڑے ہوجائیں؟

جواب: اگر کوئی شخص امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں شریک ہو، تو وہ شخص تشہد پڑھے گا، پھر اگر وہ شخص تشہد پوری نہ پڑھ سکا، اور اس دوران امام نے سلام پھیر دیا، تو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ تشہد پوری پڑھ کر کھڑا ہو، لیکن اگر تشہد پوری پڑھے بغیر کھڑا ہوگیا، تب بھی اس کی نماز بلا کراہت درست ہوجائے گی۔

دلائل:




الھندیۃ:(90/1،ط:دارالفکر)
إذا أدرك الإمام في التشهد وقام الإمام قبل أن يتم المقتدي أو سلم الإمام في آخر الصلاة قبل أن يتم المقتدي التشهد فالمختار أن يتم التشهد. كذا في الغياثية وإن لم يتم أجزأه.۔۔۔الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 198

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.