عنوان: فرض پڑھانے والی کی اقتداء میں سنت ادا کرنا(108920-No)

سوال: مفتی صاحب ! ایک شخص نے ظہر کا وقت داخل ہونے کے بعد تنہا چار رکعت فرض ادا کر لیے، فرض سے پہلے کی چار رکعت سنت نہیں پڑھی، پھر مسجد میں ظہر کی فرض نماز کی جماعت میں ظہر کی چار رکعت سنت کی نیت سے شامل ہو گیا ، تو کیا اس طرح ظہر کی سنت ادا ہو جائیگی یا وہ مطلق نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہوا، تو کیا اس صورت میں ظہر کی چار رکعت سنت مان لی جائے گی ؟ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔

جواب: یاد رہے کہ فرض پڑھانے والے کی اقتداء میں سنتیں ادا نہیں ہوسکتی ہیں، سنتوں کو الگ سے پڑھنا ضروری ہے، لہذا پوچھی گئی دونوں صورتوں میں ظہر کی سنتیں ادا نہیں ہوئیں، بلکہ وہ نفل ہوگئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (590/1، ط: سعید)
ولا يخفى أن الإمام حيث كان مفترضا أو متنفلا نفلا آخر لم توجد منه نية التراويح فلا تتأدى بنيته، و إن عینها المقتدى، كما صرح به العلامة قاسم في فتاواه . و على هذا باقى سنن الرواتب لا يصح الاقتداء بها بمفترض أو بمتفل نفلا آخر۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 191
farz parhane wale / waley ki iqtida me / mein sunnat ada karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.