عنوان:
دوسری جماعت کے لیے اقامت کہنا مسنون ہے(906-No)
سوال:
حضرت ! اگر مسجد کا امام مقرر ہو، اقامت اور جماعت سے ایک مرتبہ نماز ہو چکی ہو، اب کسی وجہ سے کچھ لوگ دوسری جماعت کروارہے ہوں تو کیا ایسی صورت میں اقامت کرنی چاہیے یا نہیں؟
جواب: جی ہاں ! دوسری جماعت کے لیے بھی اقامت کہنا مسنون ہے، البتہ جس مسجد کا امام مقرر ہو، وہاں جماعت ہو جانے کے بعد اسی مسجد میں دوسری جماعت کرانا مکروہ ہے، بلکہ مسجد کے احاطے سے باہر یا گھر پر دوسری جماعت کرانی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوی الھندیۃ: (54/1، ط: دار الفکر)
أهل المسجد إذا صلوا بأذان وجماعة يكره تكرار الأذان والجماعة فيه
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ: (6/6، ط: دار السلاسل)
أن الإقامة سنة مؤكدة، وهو مذهب المالكية، والراجح عند الشافعية، وهو الأصح عند الحنفية، وقال محمد بالوجوب، ولكن المراد بالسنة هنا السنن التي هي من شعائر الإسلام الظاهرة، فلا يسع المسلمين تركها، ومن تركها فقد أساء، لأن ترك السنة المتواترة يوجب الإساءة
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
Doosri Jumaat kay liey Iqamat ka Hukm, Hukam, Dusri, Jumat, ke, Iqama, Iqamah,
Ruling on Iqamat for second congregational prayer