عنوان: مرکب نام رکھنے کا حکم (109078-No)

سوال: مفتی صاحب ! بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ دو نام نہیں رکھ سکتے، حریم فاطمہ یا عشرت فاطمہ، براہ کرم اس بارے میں وضاحت فرمادیں کہ کیا اس طرح نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ جیسے مفرد نام (ایک لفظ والا نام) رکھنا جائز ہے، ایسے ہی مرکب نام (ایک سے زائد الفاظ پر مشتمل نام ) رکھنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ اس کا معنی صحیح ہو، البتہ مفرد نام زیادہ بہتر ہے، کیونکہ نام کا مقصد شناخت ہوتی ہے، اور وہ مفرد نام رکھنے سے پوری ہوجاتی ہے۔
ہاں ! اگر کوئی برکت کے لیے اپنے نام سے پہلے یا آخر میں "محمد" یا "احمد" لگانا چاہے، تو حصولِ برکت کے لیے ایسا کرنا پسندیدہ عمل ہے۔

لہذا حریم فاطمہ اور عشرت فاطمہ نام رکھنا جائز ہے، البتہ صرف فاطمہ نام رکھنا زیادہ بہتر ہے۔

دلائل:



تحفة المودود بأحكام المولودلابن قيم الجوزية:(ص:144،ط:مكتبة دار البيان)
لما كان المقصود بالاسم التعريف والتمييز وكان الاسم الواحد كافيا في ذلك كان الاقتصار عليه أولى ويجوز التسمية بأكثر من اسم واحد كما يوضع له اسم وكنية ولقب.

الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2753/4،ط:دارالفکر)
ويجوز التسمية بأكثر من اسم واحد، والاقتصار على اسم واحد أولى، لفعله صلّى الله عليه وسلم بأولاده".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.