عنوان: آؤٹ ڈور ایڈور ٹائزمنٹ ٹیکس (Outdoor Advertisement Tax) کا شرعی حکم(9305-No)

سوال: "آوٹ ڈور ایڈور ٹائزنگ" میں اپنی ذاتی املاک میں بھی اشتہار لگانے پر جو ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، کیا یہ ٹیکس لینا جائز ہے؟ نیز اگر اس ٹیکس سے بچنے کے لیے کوئی تدبیر کی جائے تو کیا جائز ہوگا یا نہیں؟ براہ کرم راہنمائی فرمادیں۔

جواب: اگر حکومت کے جائز اخراجات بغیر ٹیکس کے پورے نہ ہورہے ہوں، تو عوام پر ٹیکس عائد کرنے کی گنجائش ہے، (چاہے اس کا نام جو رکھ دیا ہے) بشرطیکہ اتنا ٹیکس عائد کیا جائے، جو عوام کی استطاعت کے مطابق ہو، بقدر ضرورت ہو، ٹیکس وصولی کا طریقہ کار مناسب ہو اور ٹیکس کی رقوم کو ملک و ملت کی حقیقی ضرورتوں میں خرچ کیا جائے۔
ایسی صورت میں عوام کے ذمہ ٹیکس دینا ضروری ہے، اور ٹیکس چوری کرنا یا غلط بیانی کرکے چھپانا جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر ٹیکس ظالمانہ ہو، (یعنی جس میں اوپر ذکرکردہ شرائط نہ پائی جائیں) تو اولاً تو حکومت کے ساتھ بات چیت کرکے اس کو ختم کروایا جائے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو، تو جھوٹ بولے یا لکھے بغیر توریہ (یعنی اس طرح سے بات کہنا یا لکھنا کہ مخاطب کچھ اور سمجھے اور بولنے والا کچھ اور مراد لے) کرکے اس سے بچنا ممکن ہو، تو اس کی گنجائش ہے، بشرطیکہ کوئی خلافِ شرع کام مثلا رشوت کا لین دین وغیرہ نہ کیا جائے۔
(ماخذ: تبویب الفتاوی جامعہ دار العلوم کراچی بتصرف: 90/1457)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (336/2، ط: دار الفکر)
وقال أبو جعفر البلخي ما يضربه السلطان على الرعية مصلحة لهم يصير دينا واجبا وحقا مستحقا كالخراج، وقال مشايخنا وكل ما يضربه الإمام عليهم لمصلحة لهم فالجواب هكذا حتى أجرة الحراسين لحفظ الطريق واللصوص ونصب الدروب وأبواب السكك وهذا يعرف ولا يعرف خوف الفتنة ثم قال: فعلى هذا ما يؤخذ في خوارزم من العامة لإصلاح مسناة الجيحون أو الربض ونحوه من مصالح العامة دين واجب لا يجوز الامتناع عنه، وليس بظلم ولكن يعلم هذا الجواب للعمل به وكف اللسان عن السلطان وسعاته فيه لا للتشهير حتى لا يتجاسروا في الزيادة على القدر المستحق اه.
قلت: وينبغي تقييد ذلك بما إذا لم يوجد في بيت المال ما يكفي لذلك لما سيأتي في الجهاد من أنه يكره الجعل إن وجد فيء.

الهندية: (339/5، ط: دار الفکر)
رجل قال لآخر كم أكلت من تمري؟ فقال خمسة، وهو قد أكل العشرة لا يكون كاذبا، وكذا لو قال بكم اشتريت هذا الثوب؟ فقال بخمسة، وهو قد اشترى بعشرة لا يكون كاذبا، كذا في الخلاصة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 158
outdoor advertisement tax ka shari / sharai hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.