عنوان: ظہر اور عصر کی نماز کا آخری وقت اور دوران سفر مثل اول میں عصر کی نماز پڑھنا (9777-No)

سوال: ظہر کی نماز ہم کس وقت تک پڑھ سکتے ہیں؟ اور اسی طرح عصر کی نماز کا آخری وقت کیا ہے؟ نیز کیا ہم دورانِ سفر عصر کی نماز ایک مثل میں پڑھ سکتے ہیں؟

جواب: ظہر کی نماز کا وقت زوالِ شمس کے بعد سے لے کر مثلِ ثانی (جب ہر چیز کا سایہ، سایہ اصلی کے علاوہ دوگنا ہوجائے) تک ہوتا ہے، البتہ احتیاط اس میں ہے کہ نماز مثلِ اول میں پڑھ لی جائے۔
عصر کی نماز کا وقت مثلِ ثانی سے شروع ہوتا ہے، اور غروبِ آفتاب تک رہتا ہے، البتہ عصر کی نماز اصفرار شمس (سورج کی تیزی ماند پڑنے) سے پہلے تک پڑھ لینی چاہیے، اگر اصفرار شمس کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے تک پڑھ لی، تو وہ بھی ادا کہلائے گی، لیکن مکروہ ہوگی۔
فقہ حنفی میں راجح قول کے مطابق عصر کی نماز کے وقت کی ابتدا مثلِ ثانی یعنی ہر چیز کے سائے کے (زوال کے وقت کے سائے کے علاوہ) دو مثل یعنی دوگنا ہوجانے کے بعد ہوتی ہے، اس لیے عصر کی نماز مثلِ ثانی کے بعد ہی ادا کرنی چاہیے، البتہ اگر کوئی عذر یا مجبوری ہو، تو چونکہ آئمہ ثلاثہ رحمہم اللہ کے ساتھ احناف میں سے حضرات صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک بھی مثل اول میں عصر کی نماز پڑھنا جائز ہے، لہٰذا عذر یا مجبوری کی صورت میں مثل اول میں عصر کی نماز ادا کر لی جائے، تو عصر کی نماز ادا ہوجائیگی۔
البتہ عام حالات میں مثلِ ثانی کے بعد ہی عصر کی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المبسوط للسرخسي: (142/1، ط: دار المعرفة)
قال (ووقت الظهر من حين تزول الشمس إلى أن يكون ظل كل شيء مثله) في قول أبي يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى وقال أبو حنيفة رحمه الله تعالى لا يدخل وقت العصر حتى يصير الظل قامتين ولا خلاف في أول وقت الظهر

الدر المختار مع رد المحتار: (359/1، ط: دار الفکر)
(ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) وعنه مثله، وهو قولهما وزفر والأئمة الثلاثة. قال الإمام الطحاوي: وبه نأخذ. وفي غرر الأذكار: وهو المأخوذ به. وفي البرهان: وهو الأظهر. لبيان جبريل. وهو نص في الباب. وفي الفيض: وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى....(ووقت العصر منه إلى) قبيل (الغروب)۔
(قوله: وعليه عمل الناس اليوم) أي في كثير من البلاد، والأحسن ما في السراج عن شيخ الإسلام أن الاحتياط أن لا يؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلي العصر حتى يبلغ المثلين ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، وانظر هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 360
zohar/zohor or asar ki namaz ka akhri waqt or doran e safar misle awal mein asar ki namaz parhna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.