سوال:
مفتی صاحب! "مشا" نام رکھنا کیسا ہے؟
جواب: "مِشَا" (میم کے زیر کے ساتھ) كا لفظ عربی لغت میں نہیں ملا، جب کہ مَشا (میم کے زبر کے ساتھ) کا معنیٰ ہے: "گاجر" اور مَشاء ('Mashaa)(میم کے زبر اور آخر میں ہمزہ کے ساتھ) کا معنی ہے: "مسہل دوا"، اس لحاظ سے ان تینوں الفاظ میں سے کوئی نام رکھنا مناسب نہیں ہے، ان کے بجائے کوئی بامعنی نام یا صحابيات كے ناموں میں سے کسی نام کا رکھ لینا بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن أبي داود: (رقم الحديث: 4950، ط: دار الرسالة العالمية)
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هشام بن سعيد الطالقانى، أخبرنا محمد بن المهاجر الأنصاري، قال: حدثني عقيل بن شبيب عن أبي وهب الجشمى -وكانت له صحبة- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "تسموا بأسماء الأنبياء، وأحب الأسماء إلى الله: عبد الله وعبد الرحمن، وأصدقها: حارث وهمام، وأقبحها: حرب ومرة".
القاموس الوحید: (1557)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی