عنوان: رمضان المبارک کے علاوہ سال بھر میں کون کون سے روزے رکھنے چاہیے؟ (10302-No)

سوال: رمضان المبارک کے علاوہ سال بھر میں کون کون سے روزے رکھنے چاہیے؟

جواب: رمضان المبارک کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض کیے گئے ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی شریعت مطہرہ نے انسان کی روحانی تربیت اور تزکیہ کے لیے اور اللہ تعالی کا خاص قرب حاصل کرنے کے لیے دوسری نفلی عبادات کی طرح نفلی روزوں کی بھی تعلیم دی ہے۔ 
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص دنوں اور تاریخوں کی فضیلتیں بیان فرما کے ان کے روزوں کی ترغیب دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ اس کی زبانی تعلیم وتلقین کی ہے، بلکہ اپنے عمل سے بھی امت کو ان روزوں کی ترغیب دیتے تھے، البتہ اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بھی پوری احتیاط فرماتے تھے کہ نفلی روزوں میں حد اعتدال سے آگے نہ بڑھا جائے اور ان کا اہتمام اور پابندی فرض روزوں کی طرح نہ کی جائے، بلکہ شرعی احکام کے مراتب کا لحاظ رکھتے ہوئے فرائض کو فرائض کے اور نوافل کو نوافل کے درجے میں رکھا جائے۔ پورے سال کے نفلی روزوں سے متعلق احادیث ذیل میں ذکر کی جاتی ہے:
(۱) ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنا:
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیر اور جمعرات کو اعمال (اللہ تعالی کے حضور) پیش کیے جاتے ہیں، میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں“۔ (جامع ترمذی، حدیث نمبر: 747)
(۲) ایام بیض (قمری مہینے کی 13، 14 اور 15 تاریخ) کے روزے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین وصیتیں فرمائی تھی: مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنا، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنا، اور یہ کہ میں وتر پڑھ لیا کروں سونے سے پہلے۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1981)
(۳) ماہ محرم الحرام کے روزے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افضل ترین روزے رمضان کے بعد ماہ محرم کے ہیں اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔ (صحيح مسلم، حدیث نمبر: 1163)
(۴) دس محرم الحرام کا روزہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء (دس محرم) کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھا دن ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دلائی تھی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا: پھر موسیٰ علیہ السلام کی (خوشی میں شریک ہونے میں) میں تم سے زیادہ مستحق ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2004)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نویں اور دسویں دن کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (جامع ترمذی، حدیث نمبر: 755)
(۵) ماہ شعبان کے روزے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم (آپس میں) کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں، اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نے رمضان کا مہینہ چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھا ہے اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1969)
(۶) شوال کے چھ روزے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے  رکھے تو یہ ہمیشہ (یعنی پورے سال) کے روزے شمار ہوں گے‘‘۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1164)
(۷) ماہ ذی الحجہ کے دس روزے:
  حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذی الحجہ کے (ابتدائی) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں، جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔ (سنن ترمذي: حدیث نمبر: 758)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذي: (رقم الحديث: 747، ط: دار الغرب الإسلامي)
حدثنا محمد بن يحيى قال: حدثنا أبو عاصم، عن محمد بن رفاعة، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس، فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم»: «حديث أبي هريرة في هذا الباب حديث حسن غريب»

صحيح البخاري: (رقم الحديث: 1981، ط: دار طوق النجاة)
حدثنا أبو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا أبو التياح، قال: حدثني أبو عثمان، عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: أوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بثلاث: «صيام ثلاثة أيام من كل شهر، وركعتي الضحى، وأن أوتر قبل أن أنام».

صحيح مسلم: (رقم الحديث: 1163، ط: دار إحياء التراث العربي)
حدثني قتيبة بن سعيد، حدثنا أبو عوانة، عن أبي بشر، عن حميد بن عبد الرحمن الحميري، عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أفضل الصيام، بعد رمضان، شهر الله المحرم، وأفضل الصلاة، بعد الفريضة، صلاة الليل».

صحيح البخاري:  (رقم الحديث: 2004، ط: دار طوق النجاة)
حدثنا أبو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا أيوب، حدثنا عبد الله بن سعيد بن جبير، عن أبيه، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فرأى اليهود تصوم يوم عاشوراء، فقال: «ما هذا؟»، قالوا: هذا يوم صالح هذا يوم نجى الله بني إسرائيل من عدوهم، فصامه موسى، قال: «فأنا أحق بموسى منكم»، فصامه، وأمر بصيامه.

سنن الترمذي: (رقم الحديث: 755، ط: دار الغرب الإسلامي)
وروي عن ابن عباس أنه قال: صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود. وبهذا الحديث يقول الشافعي وأحمد وإسحاق.

صحيح البخاري:  (رقم الحديث: 1969، ط: دار طوق النجاة)
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن أبي النضر، عن أبي سلمة، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم " يصوم حتى نقول: لا يفطر، ويفطر حتى نقول: لا يصوم، فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر إلا رمضان، وما رأيته أكثر صياما منه في شعبان ".

صحيح مسلم: (رقم الحديث: 1164، ط: دار إحياء التراث العربي)
حدثنا يحيى بن أيوب، وقتيبة بن سعيد، وعلي بن حجر، جميعا عن إسماعيل، قال ابن أيوب: حدثنا إسماعيل بن جعفر، أخبرني سعد بن سعيد بن قيس، عن عمر بن ثابت بن الحارث الخزرجي، عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه، أنه حدثه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال، كان كصيام الدهر».

سنن الترمذی: (باب ما جاء في العمل في أيام العشر، رقم الحدیث: 758، ط: دار الغرب الاسلامي)
حدثنا ‌أبو بكر بن نافع البصري، قال: حدثنا ‌مسعود بن واصل ، عن ‌نهاس بن قهم، عن ‌قتادة ، عن ‌سعيد بن المسيب ، عن ‌أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة»، يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة، وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 987 Feb 27, 2023
ramzan ulmubarak k elawa / ilawa saal bhar me / mein kon kon sey / se rozay rakhne chahiye / chahiyen?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sawm (Fasting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.