عنوان: کیا دوبارہ استخارہ کیا جاسکتا ہے؟(10320-No)

سوال: استخارہ اور تھوڑی سی چھان بین کر کے بچی کا رشتہ پکا کیا، بچی حافظہ عالمہ اور اب تخصص فی الافتاء کر رہی ہے، جبکہ لڑکا صرف انٹر پاس ہے، لیکن جماعت میں چار ماہ وغیرہ میں وقت لگا ہوا ہے۔
سوال یہ ہے کہ بات پکی ہوئے ابھی دو ماہ ہوئے ہیں لیکن گاہے بگاہے سب کے دل لڑکے والوں کی طرف سے پھر رہے ہیں اور کوئی نہ کوئی بات بھی آس پاس سے آجاتی ہے تو کیا ہم دوبارہ استخارہ کر سکتے ہیں کہ یہ رشتہ ہمارے لیے اب بہتر ہے یا نہیں؟

جواب: ایک بار استخارہ کرنے سے اگر دل مطمئن نہ ہو تو دوسری بار بھی کرسکتے ہیں، دو بار سے زائد بھی کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں سات بار تک استخارہ کرنے کا کہا گیا ہے، البتہ ساتھ ساتھ اس موقع پر استخارے پر اکتفا کرنے کے بجائے خاندان کے بزرگ تجربہ کار افراد سے بھی مشورہ کرلیا جائے۔
نیز اس موقع پر استخارے کا یہ مطلب سمجھنا کہ خواب میں جیسا کہا جائے یا اشارہ دیا جائے، اس کے مطابق عمل کیا جائے، خواہ ظاہر حال کچھ اور ہو، یہ درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

عمل اليوم و الليلة لابن السني: (رقم الحديث:598، 550، ط: دار القبلة)
أخبرنا أبو العباس بن قتيبة العسقلاني، حدثنا عبيد الله بن الحميري، ثنا إبراهيم بن العلاء بن النضر بن أنس بن مالك، ثنا أبي عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا أنس، إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي يسبق إلى قلبك، فإن الخير فيه.

عمدة القاري للعيني: (225/7، ط: دار إحياء التراث العربي)
فإن قلت: هل يستحب تكرار الاستخارة في الأمر الواحد إذا لم يظهر له وجه الصواب في الفعل أو الترك ما لم ينشرح صدره لما يفعل؟ قلت: بلى يستحب تكرار الصلاة والدعاء لذلك، وقد ورد في حديث تكرار الاستخارة سبعا في عمل اليوم والليلة لابن السني من رواية إبراهيم ابن البراء، قال: (حدثني أبي عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات ثم انظر إلى الذي يسبق إلى قلبك، فإن الخير فيه) . قال النووي: في (الأذكار) : إسناده غريب، وفيه من لا أعرفهم، قال شيخنا زين الدين: كلهم معروفون، ولكن بعضهم معروف بالضعف الشديد وهو إبراهيم بن البراء، والبراء هو ابن النضر ابن أنس بن مالك، وقد ذكره في (الضعفاء) العقيلي وابن حبان وابن عدي والأزدي. قال العقيلي: يحدث عن الثقات بالبواطيل. وقال ابن حبان: شيخ كان يدور بالشام يحدث عن الثقات بالموضوعات: لا يجوز ذكره إلا على مثل القدح فيه. وقال ابن عدي: ضعيف جدا، حدث بالبواطيل، فعلى هذا فالحديث ساقط لا حجة فيه، نعم، قد يستدل للتكرار بأن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دعا دعا ثلاثا.

مظاہر حق: (717/1، ط: دار الاشاعت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 358 Mar 01, 2023
kia dobara / dubara istekhara / estekhara kia jasakta hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.