عنوان: روزے کی حالت میں بھول کر یا غلطی سے کھانے پینے کا حکم(10482-No)

سوال: نفلی روزے کی حالت میں غلطی سے کچھ پی لیا تو کیا روزہ ہو جائے گا؟ نیز غلطی اور بھول میں فرق بھی بیان فرمادیں۔

جواب: روزے کی حالت میں بھول کر کھانے پینے سے روزے پر کوئی فرق نہیں پڑتا، بھول کر کھانے پینے کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت کھا پی رہا ہو، اس وقت اس کو روزے میں ہونا یاد نہ ہو۔
لیکن اگر کسی کو روزہ یاد ہو اور غلطی سے کچھ کھا پی لے (مثلا: وضو میں کلی کرتے ہوئے غلطی سے پانی حلق سے اتر جائے) تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا، اور روزہ دار پر اس روزے کی قضاء لازم ہوگی۔ فرض اور نفل ہر قسم کے روزے کا یہی حکم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 721، ط: دار الغرب الاسلامی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَلَا يُفْطِرْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ۔

الھدایة: (234/1، ط: مکتبة رحمانیة)
اذا اکل الصائم او شرب او جامع ناسیا لم یفطر، و لو کان مخطئا او مکرها فعلیه القضاء۔

الفتاوى الهندية: (222/1، ط: دار الکتب العلمیة)
إذا أكل الصائم أو شرب أو جامع ناسيًا لم يفطر، ولا فرق بين الفرض والنفل.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 611 May 10, 2023
rozay / roze ki halat me / mein bhol ker / kr ya ghalti se /say khane / khaney peney ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sawm (Fasting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.