سوال:
مجھے کئی سالوں سے مستقل سر درد (دائمی دردِ سر) کی شکایت ہے، اب تک کوئی دوا میرے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ میرے ڈاکٹر نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ میں رمضان میں روزہ نہ رکھوں کیونکہ روزہ رکھنے سے میری علامات زیادہ شدید ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات میں بہت زیادہ بیمار محسوس کرتی ہوں، اس کی وجہ سے میری نماز بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ میں شدید کمزوری اور تکلیف محسوس کرتی ہوں۔
میں جانتی ہوں کہ روزہ بہت اہم عبادت ہےاور میں دل سے روزہ رکھنا چاہتی ہوں کیونکہ میں نو مسلم ہوں اور میں نے پہلے کبھی روزہ نہیں رکھا۔براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
جواب: اگر واقعتاً روزہ رکھنے سے آپ کے سر میں ناقابلِ برداشت درد شروع ہو جاتا ہے اور کسی دوا یا علاج سے افاقہ نہیں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں جب تک یہ عذر موجود ہے، روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہے، البتہ جب اس بیماری سے صحت یاب ہو جائیں تو آپ پر ان روزوں کی قضا کرنا لازم ہوگا۔
اور اگر خدانخواستہ آپ ساری زندگی اس مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں اور مرض کے دائمی ہونے کی وجہ سے مستقبل میں بھی روزہ رکھنے پر قدرت کی امید نہ ہو تو آپ پر ان روزوں کا فدیہ دینا لازم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البحر الرائق: (308/2، ط: دار الكتب الإسلامي)
"ولأن الفدية لاتجوز إلا عن صوم هو أصل بنفسه لا بدل عن غيره فجازت عن رمضان وقضائه والنذر، حتى لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة له أن يطعم ويفطر، لأنه استيقن أن لايقدر على قضائه وإن لم يقدر على الإطعام لعسرته يستغفر الله تعالی.
رد المحتار: (427/2، ط: دار الفکر)
(قَوْلُهُ وَيَفْدِي وُجُوبًا) لِأَنَّ عُذْرَهُ لَيْسَ بِعَرَضِيٍّ لِلزَّوَالِ حَتَّى يَصِيرَ إلَى الْقَضَاءِ فَوَجَبَتْ الْفِدْيَةُ نَهْرٌ، ثُمَّ عِبَارَةُ الْكَنْزِ وَهُوَ يَفْدِي إشَارَةٌ إلَى أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى غَيْرِهِ الْفِدَاءُ لِأَنَّ نَحْوَ الْمَرَضِ وَالسَّفَرِ فِي عُرْضَةِ الزَّوَالِ فَيَجِبُ الْقَضَاءُ وَعِنْدَ الْعَجْزِ بِالْمَوْتِ تَجِبُ الْوَصِيَّةُ بِالْفِدْيَةِ.
ملتقى الأبحر: (کتاب الصوم، ص: 366، ط: دار الکتب العلمیة)
يباح الفطر لمريض خاف زيادة مرضه بالصوم وللمسافر وصومه أحب إن لم يضره ولا قضاء إن ماتا على حالهما ويجب بقدر ما فاتهما إن صح أو أقام بقدره وإلا فبقدر الصحة والإقامة فيطعن عنه وليه لكل يوم كالفطرة ويلزم من الثلث إن أوصى وإلا فلا لزوم وان تبرع به صح والصلاة كالصوم وفدية كل صلاة كصوم يوم وهو الصحيح ولا يصوم عنه وليه ولا يصلي وقضاء رمضان إن شاء فرقه وإن شاء تابعه فإن أخره وحتى جاء آخر قدم الأداء ثم قضي ولا فدية عليه والشيخ الفاني إذا عجز عن الصوم يفطر ويطعم لكل يوم كالفطرة وإن قدر بعد ذلك لزمه القضاء ... الخ
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی