resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غسل فرض ہونے کے حکم سے لاعلمی کی صورت میں ادا کی گئی نمازوں کا شرعی حکم

(39843-No)

سوال: مجھے حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ بعض اعمال کے بعد غسل فرض ہو جاتا ہے، جن سے جنابت لاحق ہوتی ہے۔ مجھے اس حکم کا علم چند ہفتے پہلے ہوا، اس عرصے کے دوران جس میں گزشتہ رمضان بھی شامل ہے، میں نے شرمگاہ میں انگلی ڈالنے (فنگرنگ) کے بعد غسل کیے بغیر نمازیں ادا کیں اور روزے رکھے۔
مجھے یاد نہیں کہ میں نے یہ عمل روزے کے اوقات میں کیا ہو، البتہ میں نے رمضان میں مغرب کے بعد یہ عمل کیا تھا، مجھے اس پر شدید ندامت ہے اور میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کر لی ہے۔ میں آئندہ اپنی عبادات کو درست کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔
میرے سوالات یہ ہیں:
کیا مجھے وہ گزشتہ نمازیں قضا کرنا ہوں گی جو میں نے غسل کے بغیر ادا کیں؟
کیا مجھے پچھلے رمضان کے روزے قضا کرنے ہوں گے؟
مجھے آئندہ درست طریقے سے کیسے عمل کرنا چاہیے؟
آپ کی رہنمائی کے لیے جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ غسل کو فرض کرنے والے اسباب میں سے ایک سبب شہوت کے ساتھ منی کا خارج ہونا ہے، خواہ یہ کسی بھی طریقے سے ہو، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر اس عمل (Fingering) کے نتیجے میں شہوت کے ساتھ منی خارج ہوئی تھی تو آپ پر غسل فرض ہو گیا تھا، اور اس کے بعد شرعی مسئلہ سے لاعلمی کی بناء پر غسل کے بغیر جو نمازیں ادا کی گئیں، وہ شرعاً درست نہیں ہوئیں، اس لیے ان نمازوں کو دوبارہ ادا کرنا لازم ہے، اسی طرح اگر صرف مذی (پتلا سفید پانی) نکلی ہو تو اس کے بعد وضو کے بغیر جو نمازیں پڑھی گئیں، ان نمازوں کا اعادہ بھی لازم ہے، نمازوں کے اعادہ کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ناپاکی کی حالت میں پڑھی گئی نمازوں کا اندازہ کرلیں اور اگر شبہ ہو تو احتیاطاً اکثر کا اعتبار کریں اور اس کے مطابق نمازیں دہرا لیں۔
جہاں تک روزے کا تعلق ہے تو اس بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر یہ عمل روزے کی حالت میں نہیں ہوا تھا تو اس صورت میں روزے پر کوئی اثر نہیں پڑا اور ایسے روزے شرعاً درست شمار ہوں گے، لیکن اگر یہ عمل روزے کی حالت میں کیا گیا تو اس صورت میں اس روزے کی قضا لازم ہوگی، البتہ کفّارہ لازم نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع:(كتاب الصلاة، فصل شرائط أركان الصلاة،114/1،ط:دار الكتب العلمية)
(أما) شرائط أركان الصلاة: (فمنها) الطهارة بنوعيها من الحقيقية والحكمية، والطهارة الحقيقية هي طهارة الثوب والبدن ومكان الصلاة عن النجاسة الحقيقية، والطهارة الحكمية هي طهارة أعضاء الوضوء عن الحدث، وطهارة جميع الأعضاء الظاهرة عن الجنابة.

(أما) طهارة الثوب وطهارة البدن عن النجاسة الحقيقية فلقوله تعالى: {وثيابك فطهر}[المدثر: 4] ، وإذا وجب تطهير الثوب فتطهير البدن أولى. (وأما) الطهارة عن الحدث والجنابة فلقوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم} [المائدة: 6] إلى قوله: {ليطهركم} [الأنفال: 11]. وقول النبي صلى الله عليه وسلم : «لا صلاة إلا بطهور» ، وقوله عليه الصلاة والسلام: «لا صلاة إلا بطهارة» وقوله صلى الله عليه وسلم: «مفتاح الصلاة الطهور» . وقوله تعالى: {وإن كنتم جنباً فاطهروا} [المائدة: 6]".

رد المحتار:(باب قضاء الفوائت،77،76/2،ط: دار الفکر)
(ﻗﻮﻟﻪ ﻛﺜﺮﺕ اﻟﻔﻮاﺋﺖ ﺇﻟﺦ) ﻣﺜﺎﻟﻪ: ﻟﻮ ﻓﺎﺗﻪ ﺻﻼﺓ اﻟﺨﻤﻴﺲ ﻭاﻟﺠﻤﻌﺔ ﻭاﻟﺴﺒﺖ ﻓﺈﺫا ﻗﻀﺎﻫﺎ ﻻ ﺑﺪ ﻣﻦ اﻟﺘﻌﻴﻴﻦ ﻷﻥ ﻓﺠﺮ اﻟﺨﻤﻴﺲ ﻣﺜﻼ ﻏﻴﺮ ﻓﺠﺮ اﻟﺠﻤﻌﺔ، ﻓﺈﻥ ﺃﺭاﺩ ﺗﺴﻬﻴﻞ اﻷﻣﺮ، ﻳﻘﻮﻝ ﺃﻭﻝ ﻓﺠﺮ ﻣﺜﻼ، ﻓﺈﻧﻪ ﺇﺫا ﺻﻼﻩ ﻳﺼﻴﺮ ﻣﺎ ﻳﻠﻴﻪ ﺃﻭﻻ ﺃﻭ ﻳﻘﻮﻝ ﺁﺧﺮ ﻓﺠﺮ، ﻓﺈﻥ ﻣﺎ ﻗﺒﻠﻪ ﻳﺼﻴﺮ ﺁﺧﺮا، ﻭﻻ ﻳﻀﺮﻩ ﻋﻜﺲ اﻟﺘﺮﺗﻴﺐ ﻟﺴﻘﻮﻃﻪ ﺑﻜﺜﺮﺓ اﻟﻔﻮاﺋﺖ. ﻭﻗﻴﻞ ﻻ ﻳﻠﺰﻣﻪ اﻟﺘﻌﻴﻴﻦ ﺃﻳﻀﺎ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ ﺻﻮﻡ ﺃﻳﺎﻡ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻭاﺣﺪ، ﻭﻣﺸﻰ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻤﺼﻨﻒ ﻓﻲ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺷﺘﻰ ﺁﺧﺮ اﻟﻜﺘﺎﺏ ﺗﺒﻌﺎ ﻟﻠﻜﻨﺰ ﻭﺻﺤﺤﻪ اﻟﻘﻬﺴﺘﺎﻧﻲ ﻋﻦ اﻟﻤﻨﻴﺔ، ﻟﻜﻦ اﺳﺘﺸﻜﻠﻪ ﻓﻲ اﻷﺷﺒﺎﻩ ﻭﻗﺎﻝ ﺇﻧﻪ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﻟﻤﺎ ﺫﻛﺮﻩ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﻛﻘﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻭاﻷﺻﺢ اﻻﺷﺘﺮاﻁ. اﻩ.
ﻗﻠﺖ: ﻭﻛﺬا ﺻﺤﺤﻪ ﻓﻲ اﻟﻤﻠﺘﻘﻰ ﻫﻨﺎﻙ، ﻭﻫﻮ اﻷﺣﻮﻁ، ﻭﺑﻪ ﺟﺰﻡ ﻓﻲ اﻟﻔﺘﺢ ﻛﻤﺎ ﻗﺪﻣﻨﺎﻩ ﻓﻲ ﺑﺤﺚ اﻟﻨﻴﺔ ﻭﺟﺰﻡ ﺑﻪ ﻫﻨﺎ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﺪﺭﺭ ﺃﻳﻀﺎ.

الفتاوى الهندية:(مطلب في موجبات الكفر،268/2،ط: دار الفكر)
ﻭﻛﺬا ﺇﺫا ﺻﻠﻰ ﺑﻐﻴﺮ ﻃﻬﺎﺭﺓ، ﺃﻭ ﺻﻠﻰ ﻣﻊ اﻟﺜﻮﺏ اﻟﻨﺠﺲ، ﻭﻟﻮ ﺻﻠﻰ ﺑﻐﻴﺮ ﻭﺿﻮء ﻣﺘﻌﻤﺪا ﻳﻜﻔﺮ

الدر المختار:(کتاب الصوم ،باب مایفسد الصوم ومالایفسد،400/2،سعید)
(أو أصبح جنبا و) إن بقي كل اليوم (أو اغتاب) من الغيبة ۔۔۔۔۔۔۔(لم يفطر).

رد المحتار:(399/2، ط: دار الفكر)
مطلب فی حکم الاستمناء بالکف، (قوله وکذا الاستمناء بالکف) ای فی کونه لایفسد لکن ھذا اذا لم ینزل اما اذا انزل فعلیه القضاء کما سیصرح به وھو المختار۔

الھندیۃ: (10/1، ط: دار الفکر)
المذي ينقض الوضوء وكذا الودي والمني إذا خرج من غير شهوة بأن حمل شيئا فسبقه المني أو سقط من مكان مرتفع يوجب الوضوء. كذا في المحيط.

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sawm (Fasting)