عنوان: مخصوص بکرے کے ذبح کرنے کی منت مان کر اس بکرے کو بیچنے کا حکم(10485-No)

سوال: ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر میرا بیٹا صحت یاب ہو جائے تو میں فلاں متعین بکرا ذبح کر کے غرباء کو کھلاونگا، اب وہ مریض دو تین سال سے بستر پر لیٹے ہیں اور بظاہر ٹھیک ہونے کی کوئی امید بھی نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ متعین بکرا گھر والے پال نہیں سکتے اور وہ بکرے کو بیچنا یا ذبح کرنا چاہتے ہیں تو کیا ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو مریض کے ٹھیک ہونے کی صورت میں متعین بکرے کا کیا ہوگا؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں گھر والوں کے لیے وہ متعین بکرا بیچنا جائز ہے، اور مریض کے صحت یاب ہونے کی صورت میں ان پر اسی قیمت یا اس سے زیادہ قیمت کا کوئی بھی بکرا ذبح کرکے فقراء میں تقسیم کردینا ضروی ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (245/2، ط: مكتبة رشيدية)
وإن كان معلقا بشرط نحو أن يقول: إن شفى الله مريضي، أو إن قدم فلان الغائب فلله علي أن أصوم شهرا، أو أصلي ركعتين، أو أتصدق بدرهم، ونحو ذلك فوقته وقت الشرط، فما لم يوجد الشرط لا يجب بالإجماع.

امداد الفتاوى: (191/6، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)
قلت: لما صح النذر بالذبح وجب الذبح والتصدق غیر الذبح فلا یکفي.

المبسوط للسرخسي: (131/3، ط: دار المعرفة)
كما في الصدقة إذا عين الدراهم فهلكت تلك الدراهم لم يلزمه شيء ولو تصدق بمثلها وأمسكها خرج عن موجب نذره...

فتاوى جامعة دار العلوم كراتشي: (2044/62)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 519 May 14, 2023
makhsoos bakre / bakray ko zibha / zibah karne ki mannat / manat maan ker us bakrey / bakre ko bechney ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.