سوال:
السلام علیکم! میں نے نیت کی تھی اور زبان سے بھی الفاظ ادا کئے تھے کہ جو بھی کماؤں گا، اس کا 25 فیصد اللہ کی راہ میں دوں گا تو کیا یہ صدقہ اپنے گھر والوں کو یا مسجد میں دیا جاسکتا ہے یا کسی غریب کو دینا ضروری ہے اور کیا اس رقم پر بھی صدقہ کرنا ہوگا، جب میں کسی سے اپنا ادھار واپس لوں؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ نے قسم یا نذر کے الفاظ زبان سے ادا نہیں کیے، بلکہ صدقہ کرنے کا محض ارادہ کیا ہے، اس لیے یہ نذر منعقد نہیں ہوئی، اور آپ پر اپنی کمائی کا ہر بار 25 فیصد صدقہ کرنا ضروری نہیں ہے، تاہم صدقہ دینا شریعت میں بہت فضیلت والا عمل ہے، اور قرآن و حدیث میں اس کی بڑی ترغیب آئی ہے، اور چونکہ آپ اپنی کمائی کا 25 فیصد حصہ صدقہ کرنے کی نیت بھی کرچکے ہیں، اس لیے مناسب یہی ہے کہ آپ اپنی اس نیت کے مطابق عمل کرتے رہیں، اگرچہ آپ پر یہ صدقہ کرنا ضروری نہیں ہے، نیز یہ صدقہ آپ اپنے گھر والوں کو بھی دے سکتے ہیں، اور مسجد یا دیگر نیک کاموں میں بھی خرچ کر سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم:(سورة الحدید، الآیة: 11)
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٓٗ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۚ۱۱﴾
صحيح البخاري:(كتاب الزكاة، رقم الحديث:1427)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ".
وَعَنْ وُهَيْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا.
بدائع الصنائع: كتاب النذر،81/5،ط: دار الكتب العلمية)
ﻓﺮﻛﻦ اﻟﻨﺬﺭ ﻫﻮ اﻟﺼﻴﻐﺔ اﻟﺪاﻟﺔ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻫﻮ ﻗﻮﻟﻪ: "ﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﺷﺄﻧﻪ ﻋﻠﻲ ﻛﺬا، ﺃﻭ ﻋﻠﻲ ﻛﺬا، ﺃﻭ ﻫﺬا ﻫﺪﻱ، ﺃﻭ ﺻﺪﻗﺔ، ﺃﻭ ﻣﺎﻟﻲ ﺻﺪﻗﺔ، ﺃﻭ ﻣﺎ ﺃﻣﻠﻚ ﺻﺪﻗﺔ، ﻭﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ.
وفيه أيضاً:(كتاب الزكاة،فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه،48/2،ط: دار الكتب العلمیة)
وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة.
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی