سوال:
السلام علیکم! ایک آدمی نے کاروبار شروع کرتے وقت نیت کی کہ وہ اپنے منافع کا اتنے فیصد ہمیشہ اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس رقم سے کسی رشتہ دار کی شادی میں خرچ کر سکتا ہے یا اسی طرح کیا وہ اس رقم سے عمرہ کر سکتا ہے؟ یہ رقم نفلی صدقہ میں سے ہے، زکوٰۃ یا فطرانہ نہیں ہے۔ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ نے صدقہ کرنے کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا، بلکہ صرف ارادہ کیا ہے، اس لیے ہر ماہ آپ پر صدقہ کرنا واجب نہیں ہے، لہٰذا اگر آپ یہ رقم کسی کو ہبہ کرنا چاہتے ہیں یا اس سے عمرہ کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
وفيه أيضاً:(5/ 709،ط: دار الفكر)
(والصدقة كالهبة) بجامع التبرع، وحينئذ (لا تصح غير مقبوضة ولا في مشاع يقسم، ولا رجوع فيها) ولو على غني؛ لأن المقصود فيها الثواب لا العوض، ولو اختلفا فقال الواهب هبة، والآخر صدقة فالقول للواهب خانية.
المحيط البرهاني:(6/ 265،ط: دار الكتب العلمية)
وقال عامر الشعبي: هو بالخيار إن شاء قضاها وإن شاء لم يقضها، لا تجوز الصدقة إلا بالقبض، وقال مجاهد: من أخرج صدقة فهو بالخيار إن شاء أمضى وإن شاء لم يمض، وعن عطاء مثله. قال الفقيه أبو الليث: وهو المأخوذ.
الفتاوى الهندية:(4/ 406،ط: دار الفكر)
رجل في يده دراهم، فقال لله علي أن أتصدق بهذه الدراهم فتصدق بغيرها، قال نصير - رحمه الله تعالى - جاز، وإن لم يتصدق حتى هلكت الدراهم في يده فلا شيء عليه، كذا في فتاوى قاضي خان.
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی