عنوان: بار بار عمرہ کرنے کے بجائے عمرہ کی رقم ضرورت مندوں پر صدقہ کرنے یا کسی اور کو عمرہ پر بھیجنے کا حکم (10599-No)

سوال: عبداللہ اپنا فرض حج ادا کرچکا ہے، پھر ہر چار سال کے بعد دو عمرے بھی کرچکا ہے، اس کو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے کے بجائے یہ رقم کسی ضرورت مند کو دے دو، اتنے زیادہ لوگ ضرورت مند ہیں یا کسی ایسے شخص کو عمرہ پر بھیج دو جس نے عمرہ نہ کیا ہو تو کیا اس کا عمرہ کرنے کے بجائے کسی کی مالی مدد کرنا یا کسی دوسرے کو عمرہ پر بھیجنا زیادہ بہتر عمل ہوگا؟ نیز کیا عبداللہ کسی اور کو بھیجنے کے بجائے اپنے والد صاحب کو عمرہ کراسکتا ہے، انہوں نے اگرچہ اپنے پیسوں سے عمرہ کیا ہوا ہے؟ یا پھر کسی ایسے شخص کو بھیجا جائے جو اب تک حرم نہ جاسکا ہو؟

جواب: عبداللہ اپنا فرض حج ادا کرچکا ہے، پھر ہر چار سال کے بعد دو عمرے بھی کرچکا ہے، اس کو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے کے بجائے یہ رقم کسی ضرورت مند کو دے دیں، اتنے زیادہ لوگ ضرورت مند ہیں یا کسی ایسے شخص کو عمرہ پر بھیج دیں جو جس نے عمرہ نہ کیا ہو۔ تو کیا اس کا عمرہ کرنے کے بجائے کسی کی مالی مدد کرنا یا عمرہ پر بھیجنا زیادہ بہتر عمل ہوگا؟ نیز کیا عبداللہ کسی اور کو بھیجنے کے بجائے اپنے والد صاحب کو عمرہ کراسکتا ہے، انہوں نے اگرچہ اپنے پیسوں سے عمرہ کیا ہے یا پھر کسی ایسے شخص کو بھیجا جائے جو اب تک حرم نہ جاسکا ہو؟
بار بار عمرہ کرنے کے بجائے عمرہ کی رقم ضرورت مندوں پر صدقہ کرنے یا کسی اور کو عمرہ پر بھیجنے کا حکم
الجواب حامدا ومصلیا۔۔۔۔۔۔
اگر کسی شخص کو استطاعت ہو تو اس کے لیے بار بار عمرہ کرنا افضل اور مستحب ہے۔ احادیث مبارکہ سے بکثرت نفلی عمرے کرنے کی ترغیب معلوم ہوتی ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1349) اور  حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو دور کرتی ہے “۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 2887)
اسی طرح غرباء و مساکین پر خرچ کرنا بھی بہت بڑے اجر کا باعث ہے، البتہ نفلی عمرہ کرنے اور غرباء و مساکین پر خرچ کرنے میں کونسا عمل زیادہ افضل ہے؟ اس بارے میں راجح قول یہ ہے کہ جس عمل کی ضرورت و حاجت زیادہ ہو اس کا اجر و ثواب دوسرے عمل کے بنسبت زیادہ ہوگا، لہذا اسی اصول کے پیش نظر اگر جاننے والوں میں کوئی شخص بہت زیادہ مالی تنگی کا شکار ہو اور اس کی بنیادی ضروریات کسی طرح پوری نہ ہورہی ہوں تو عمرہ کرنے والے شخص کے لیے افضل یہ ہے کہ عمرہ کرنے کے بجائے وہ رقم اس ضرورت مند کو دے دے، خصوصاً جبکہ مجبور اور ضرورت مند شخص کوئی رشتہ دار، دین دار یا آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہو، لیکن اگر ایسی کوئی صورت درپیش نہ ہو تو پھر نفلی عمرہ کرنا افضل ہوگا۔
نیز واضح رہے کہ کسی شخص کا اپنی جگہ اپنے والد کو عمرہ پر بھیجنا جائز ہے اور اس بارے میں دوسرے شخص کے مقابلے میں والد کا حق مقدم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحيح مسلم: (رقم الحديث: 2887، ط: دار إحياء التراث العربي)
حدثنا يحيى بن يحيى. قال: قرأت على مالك عن سمي مولى أبي بكر بن عبد الرحمن، عن أبي صالح السمان، عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما. والحج المبرور، ليس جزاء إلا الجنة".

سنن ابن ماجه: (رقم الحديث: 1349، ط: دار إحياء التراث العربي)
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا سفيان بن عيينة ، عن عاصم بن عبيد الله ، عن عبد الله بن عامر ، عن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" تابعوا بين الحج والعمرة، فإن المتابعة بينهما تنفي الفقر والذنوب، كما ينفي الكير خبث الحديد".

رد المحتار: (472/2، ط: دار الفكر) 
(قوله والعمرة في العمر مرة سنة مؤكدة) أي إذا أتى بها مرة فقد أقام السنة غير مقيد بوقت غير ما ثبت النهي عنها فيه إلا أنها في رمضان أفضل هذا إذا أفردها فلا ينافيه أن القران أفضل لأن ذلك أمر يرجع إلى الحج لا العمرة.
فالحاصل: أن من أراد الإتيان بالعمرة على وجه أفضل فيه فبأن يقرن معه عمرة فتح، فلا يكره الإكثار منها خلافا لمالك، بل يستحب على ما عليه الجمهور وقد قيل سبع أسابيع من الأطوفة كعمرة شرح اللباب.

و فيه أيضاً: (621/2، ط: دار الفكر) 
(قوله : ورجح في البزازية أفضلية الحج)... قال الرحمتي: والحق التفصيل، فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل ... وكذا بناء الرباط إن كان محتاجا إليه كان أفضل من الصدقة وحج النفل وإذا كان الفقير مضطرا أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي - صلى الله عليه وسلم - فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعمر وبناء ربط.

و فيه أيضاً: (569/1، ط: دار الفكر) 
وفي حاشية الأشباه للحموي عن المضمرات عن النصاب: وإن سبق أحد إلى الصف الأول فدخل رجل أكبر منه سنا أو أهل علم ينبغي أن يتأخر ويقدمه تعظيما له اه فهذا يفيد جواز الإيثار بالقرب بلا كراهة خلافا للشافعية.
أقول: وينبغي تقييد المسألة بما إذا عارض تلك القربة ما هو أفضل منها؛ كاحترام أهل العلم والأشياخ، كما أفاده الفرع السابق والحديث فإنهما يدلان على أنه أفضل من القيام في الصف الأول، ومن إعطاء الإناء لمن له الحق وهو من على اليمين، فيكون الإيثار بالقربة انتقالا من قربة إلى ما هو أفضل منها وهو الاحترام المذكور. أما لو آثره على مكانه في الصف مثلا من ليس كذلك يكون أعرض عن القربة بلا داع، وهو خلاف المطلوب شرعا.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 789 Jun 09, 2023

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.