عنوان: مرحومہ بہن سے کیے گئے حج کے وعدے کا حکم(10929-No)

سوال: سوال یہ ہے کہ ایک بہن نے دوسری بہن کو کہا کہ اگر میرا بیٹا کمانے لگ جائے تو اُس کے پیسے سے آپ کو حج کرائیں گے،لیکن جب اُس کا بیٹا کمانے لگا تو اس وقت بہن فوت ہو گئی تھی۔ اب اس کا بیٹا کما رہا ہے اور وہ اُس کی تلافی کرنا چاہتی ہے تو اُس کی کیا صورت ہوگی؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ الفاظ وعدے کے الفاظ ہیں، اور بہن کا چونکہ انتقال بھی ہو گیا ہے، اس لیے ان کو حج کرانا اب ممکن نہیں رہا، اسی طرح پوچھی گئی صورت میں مذکورہ خاتون پر مرحومہ بہن کی طرف سے حج کرنا بھی شرعاً ضروری نہیں ہے، البتہ اگر مذکورہ خاتون اپنی بہن کو ثواب پہنچانے کے لیے نفلی حج کرلے تو ان کی بہن کو اس کا ثواب پہنچ جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 4399، ط: دار طوق النجاۃ)
‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:‏‏‏‏ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ.

امداد الاحکام: (46/3، ط: مکتبة دار العلوم)

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 222 Aug 23, 2023
marhoma / inteqal shuda behen se / say kiye gai hajj k wadey / waday ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.