عنوان: شوہر کی بے راہ روی کی وجہ نامرد ہونے کا وظیفہ کرنے کا حکم (11035-No)

سوال: شوہر کو شادی سے قبل زنا کی عادت ہے، اب شادی کو چار سال پورے ہوگئے ہیں، لیکن عادت مزید بڑھ گئی ہے، ہر طرح سے منع کرنے کی کوشش کی، کیا بیوی اس کے نامرد بننے کا وظیفہ خود یا کسی اور سے کرواسکتی ہے تاکہ وہ زنا سے بچ جائے؟

جواب: واضح رہے کہ کسی کو نقصان پہنچانے کیلئے وظیفہ یا دعا کرنا جائز نہیں ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں بیوی کو چاہیے کہ شوہر کے نامرد ہوجانے کے وظائف کرنے کے بجائے ہدایت اور گناہ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اخلاص کے ساتھ دعا کرتی رہے، اور اپنی حد تک اس کو سمجھانے اور گناہ سے باز رکھنے کی کوشش کرے، اس کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت میں جو دعائیں منقول ہیں، ان کو بھی پڑھنے کا معمول بنانا چاہیے۔
چند دعائیں مندرجہ ذیل ہیں:
{رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا} [الفرقان : 74]
ترجمہ: ہمارے پروردگار! ہمیں اپنی بیوی بچوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا سربراہ بنادے۔
{وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ}[الأنفال : 63]
ترجمہ: اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کردی، اگر تم زمیں بھر کی ساری دولت بھی خرچ کرلیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، یقیناً وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
"اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِّرْ قَلْبَهُ وَحَصِّنْ فَرْجَهُ" (تفسير ابن كثير،5/ 72)
ترجمہ: اے اللہ! اس کے گناہوں کو معاف فرما، اور اس کے دل کو پاک فرما، اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکريم: (البقرة، الآیة: 102)
وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ ... الخ

و قوله تعالی: (الإسراء، الآیة: 32)
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا o

صحيح البخاري: (13/1، ط: طوق النجاة)
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ وَإِسْمَاعِيلَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللهُ عَنْهُ۔

تفسير ابن كثير: (72/5، ط: دار طيبة)
يقول تعالى ناهيًا عباده عن الزنا وعن مقاربته، وهو مخالطة أسبابه ودواعيه { وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً } أي: ذنبًا عظيمًا { وَسَاءَ سَبِيلا} أي: وبئس طريقًا ومسلكًا.
وقد قال الإمام أحمد: حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا جرير، حدثنا سليم بن عامر، عن أبي أمامة قال: إن فتى شابًا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، ائذن لي بالزنا. فأقبل القوم عليه فزجروه، وقالوا: مًهْ مَهْ. فقال: "ادنه". فدنا منه قريبًا، فقال اجلس". فجلس، قال: "أتحبه لأمك؟" قال: لا والله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لأمهاتهم" . قال: "أفتحبه لابنتك"؟ قال: لا والله يا رسول الله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لبناتهم" ، قال: "أتحبه لأختك"؟ قال: لا والله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لأخواتهم"، قال: "أفتحبه لعمتك"؟ قال: لا والله جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لعماتهم" قال: "أفتحبه لخالتك"؟ قال: لا والله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لخالاتهم" قال: فوضع يده عليه وقال: "اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه وحصن فرجه" قال: فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شي.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 456 Sep 12, 2023

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.