resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بغیر گواہ کے نکاح کا حکم(1150-No)

سوال: السلام علیکم، جناب کیا لڑکی اور لڑکا اگر مذاق کرتے ہوئے یہ کہیں کہ تم مجھے تین بار قبول یا تین بار کہے اور لڑکی بھی قبول ہے کہے اور کوئی گواہ موجود نہ ہو تو کیا نکاح ہو جائے گا؟

جواب: نکاح منعقد ہونے کے لیے دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے، ورنہ نکاح نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں بغیر گواہوں کی موجودگی میں آپس میں مذاق میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهداية: (کتاب النکاح، 304/2، ط: اشرفیة)

"ولاینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاهدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل، و امرأتین".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Baghair Gawahon ki maujoodgi mai eejabo qubool karnay say nikah munaqad nahi hota , مذاق میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاحبغیر گواہ کے نکاح, بغیر گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا, Offer and Acceptance in the absence of witnesses is not considered marriage

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah