سوال:
مفتی صاحب! میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ اگر لڑکی نے لڑکے کو واٹس ایپ وائس نوٹ پر تین دفعہ قبول کر لیا ہو اور لڑکے نے بعد میں فیس بک میں میسنجر پر یہ ایجاب و قبول دو یا اس سے زیادہ گواہان کو سنایا ہو تو کیا نکاح جائز ہوگا؟ بعد میں کچھ عرصے بعد لڑکے نے اپنا اور لڑکی کا ان کو نام بھی بتا دیا ہو تو کیا یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے لڑکے اور لڑکی یا ان کے وکیلوں کا شرعی گواہوں (دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے، جبکہ پوچھی گئی صورت میں باقاعدہ ایک ہی مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول نہیں ہوا ہے، اس لیے یہ نکاح درست نہیں ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھدایة: (185/1، ط: دار احياء التراث العربي)
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين۔
بدائع الصنائع: (231/2، ط: دار الكتب العلمية)
ثم النكاح كما ينعقد بهذه الالفاظ بطريق الاصالة ينعقد بها بطريق النيابة بالوكالة والرسالة؛ لان تصرف الوكيل كتصرف الموكل وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلی الله عليه وسلم أم حبيبة رضي الله عنها فلا يخلو ذلك اما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وان فعله بغير امره فقد اجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والاجازة اللاحقة كالوكالة السابقة.
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی